لائف اسٹائل

ٹائیفائیڈ بخار

موسم گرما کی آمد کے ساتھ  خوش ذائقہ پھل ہی نہیں ہماری لاپروائیوں کی وجہ سے کئی ایک بیماریاں بھی چلی آتی ہیں۔ موسم گرما کی ایک اہم بیماری ٹائیفائیڈ بھی ہے، اسے میعادی بخار، تپِ محرقہ اور موتی جھیرا بھی کہتے ہیں۔ ایک متعدی( چھونے سے لگنے والی) بیماری ہے جو موذی بھی ہوسکتی ہے۔ یہ عموماً سالمونیلا ٹائیفی (Salmonella Typhi) نامی بیکٹیریا سے پیدا ہوتی ہے، تاہم یہ ابرتھ بیسیلس (Eberth bacillus)  کی وجہ سے اور کبھی کبھار سالمونیلا پیرا ٹائیفی (Salmonella paratyphi ) کی قسم اے، بی ، سی سے بھی ہوسکتی ہے۔  یہ جراثیم بیمار انسان سے صحت مند انسان کے جسم میں خوراک کے ذریعے پہنچتا ہے جس کی وجہ آلودہ غذا، پانی اور مشروبات کا استعمال ہے، اس کے جراثیم فضلات سے پھیل کر براستہ منھ جسم میں داخل ہوتے ہیں۔گرمیوں میں مکھیوں کی افزائش کے باعث یہ مرض گرمیوں میں پھوٹ پڑتا ہے۔ مریض کے پاخانے سے اس کے جراثیم کا اخراج ہوتا اور مکھیاں اسے انسانی خوراک تک پہنچا دیتی ہیں یا سیوریج کی نالیاں لیک ہونے سے بھی آلودہ پانی پینے کے پانی کی نالیوں تک منتقل ہو جاتا ہے۔ بازاروں میں بکنے والی ناقص اشیا، بالخصوص کھلی غذائی اشیا جن پر مکھیاں بیٹھتی ہیں، وہ اس بیماری کے پھیلاؤ کی اہم وجہ ہیں۔

جب کوئی ٹائیفائڈ کے جراثیم سے آلودہ شے کھائیں یا پی لیں تو یہ بیکیٹریا جسم میں داخل ہوکر آنتوں کی طرف جاتا ہے، اور وہاں سے دوران خون میں شامل ہوجاتا ہے جہاں سے یہ لمفی ابھار ( خون کے سفید ذرات بننے کے مقام)، صفرا (پت) کی تھیلی، جگر، تلی، اور جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ سکتا ہے۔ دنیا بھر میں آنتوں کے بخار کی سب سے عام اور شدید وجہ ٹائیفائیڈ کا بخار ہے۔ ہر سال تقریباً 20 ملین افراد ٹائیفائیڈ بخار کا شکار ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں تقریباً 2 لاکھ اموات ہوجاتی ہیں۔ متاثرہ افراد میں سے تقریباً 5 فیصد  کے جسم میں انفیکشن ٹھیک ہوجانے کے باوجود بھی کئی سال تک بیکٹیریا موجود رہتا اور پاخانے اور پیشاب کے ذریعے خارج ہوتا رہتا ہے۔

اہم علامات:

بیکٹیریا کے جسم میں داخل ہونے کے 7 سے 14 دنوں میں  مریض میعادی بخار کی علامات محسوس کرنے لگتا ہے، اہم علامات یہ ہیں:

  • بے چینی، لرزہ ، کپکپی
  • توجہ مرکوز کرنے میں دشواری
  • مزاج میں اتار چڑھاؤ ، تھکن اور گھبراہٹ
  • بخار کی وجہ سے وہم کا آنا یا مدہوشی،  سستی، کاہلی،  غنودگی کا احساس
  • بخار کے دوسرے ہفتے کے دوران سینے اور پیٹ کی جلد پر گلابی دھبے
  • ناک سے اور پاخانے میں خون آنا
  • پیٹ میں درد ، بھوک میں کمی ، قبض اور اس کے بعد اسہال اور جسم میں پانی کی کمی
  • مستقل بخار، 40 سینٹی گریڈ (104 فارن ہائیٹ) تک
  • سر اور جوڑوں کا درد

تشخیص

علامات اور طبی ہسٹری کا مشاہدہ کرکے اور درج ذیل ٹیسٹوں کے ذریعے اس مرض کی شناخت کی جاسکتی ہے۔

  • خون کا تجزیہ: یہ طریقہ سب سے زیادہ استعمال کی جاتا ہے جو مرض کے پہلے ہفتے کے دوران بیکٹیریا کی شناخت یا لیکوکائٹس (مدافعتی خلیوں) کی تعداد میں اضافے کی شناخت کرتا ہے۔
  • پاخانے کا نمونہ: خرد نامیے (مائیکرو آرگینزم) کی شناخت کے لیے پاخانے کا نمونہ
  • پیشاب ٹیسٹ: اس مادے (اینٹی جن)کی موجودگی کا پتا چلانے کے لیے جو جو جسم بیکٹیریا سے مقابلے کے لیے پیدا کرتا ہے۔
  • ٹائیفائڈ بخار کے بیکٹیریا کے لیے مخصوص مادوں کی تلاش کے لیے فلوریسنٹ اینٹی باڈیز کا مطالعہ ۔

علاج

  • ٹائیفائیڈ بخار کے دوران سیرم اور پانی کی کمی دور کرنے والے مشروبات تجویز کیے جاتے ہیں تا کہ دستوں کی وجہ سے جسم میں ہونے والی پانی کی کمی کو دور کیا جاسکے۔
  • مناسب اینٹی بائیوٹکس کے ساتھ علاج سے پیچیدگیوں سے  بھی حفاظت ممکن ہوتی ہے اور چند روز کے علاج  سے  بہتری آجاتی ہے۔
  • اگر مناسب  علاج نہ کیا جائے تو علامات کئی ہفتوں یہاں تک کہ کئی مہینوں تک موجود رہ سکتی ہیں اور اس صورت میں اموات کی شرح 20 فیصد تک ہے۔
  • بخار روکنے کی ادویات (اینٹی پائریٹس) تجویز نہیں کی جاتی ہیں (تاکہ جسم کا درجہ حرارت برقرار رہے)۔  دست  روکنے والی ادویات بھی تجویز نہیں کی جاتیں۔
  • اگر انفیکشن کے مکمل طور پر خاتمے سے پہلے علاج روک دیا جائے تو مرض دوبارہ واپس آسکتا ہے۔
  • اگر مناسب علاج پر عمل کیا جائے تو بیماری 2 سے 4 ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔
  • مریض کے آرام کا خاص خیال رکھیں۔ تھکن والے کام کرنے سے پرہیز کریں۔

غذا

  • مریض کو توانائی بخش خوراک دی جائے۔
  • یخنی، کھچڑی، دلیہ، ابلے ہوئے آلو، تلے ہوئے چپس، نوڈلز، دال، لوبیا، پلاؤ، قیمہ کھا سکتے ہیں
  • پھل یا پھلوں کے رس، گلوکوز، وغیرہ دیے جاسکتے ہیں ۔
  • ایسی خوراک جو معدے پر بوجھ ڈالنے کا باعث بنے جیسے نان، بھنا ہوا گوشت، پکوڑے وغیرہ، ان سے مکمل پرہیز کیا جائے۔

مرض کی پیچیدگیاں:

اگر کسی ڈاکٹر سے فوری رابطہ نہ کیا جائے  یا ڈاکٹر مرض کی تشخیص درست طور پر نہ کرسکے تو درج ذیل پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

  • آنتوں سے خون جاری ہونا : معدے اور آنتوں سے شدید خون بہنے لگتا ہے۔
  • آنتوں میں سوراخ ہوسکتے ہیں جو مہلک ثابت ہوتے ہیں۔
  • گردوں کے افعال میں کمی آجاتی ہے اور وہ خون صاف کرنے کے اپنے عمل سے قاصر ہوجاتے ہیں۔
  • پیریٹونیم (پیڑو کی جھلی) یا پیٹ کے اندرونی خلا کا انفیکشن (پیریٹونٹس)
  • ٹائیفائیڈ کے بخار سے تلی پھٹ جاتی ہے جس سے مریض کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔

عمومی احتیاطیں

  • کھانا کھانے سے پہلے اور رفع حاجت کے بعد ہاتھ اچھے سے صابن یا لیکوئڈ سوپ سے اچھی طرح دھولیں۔
  • غذا کو محفوظ کرنے میں احتیاط سے کام لیں اور صفائی سے استعمال کریں ، کھانے کی تمام اشیا کو ڈھانپ کر رکھیں۔
  • وہ افراد جو اس بیماری کا شکار ہیں یا ان میں اس کی علامتیں ظاہر ہوئی ہوں وہ کھانے کی اشیا کو ہاتھ نہ لگائیں۔
  • وہ غذا نہ کھائی جائے جو ابلی پکائی یا چھلکا اتاری ہوئی نہ ہو۔
  • مچھلی اور سمندری غذاؤں کو کھانے سے 10 منٹ پہلے پکائیں۔ مچھلی یا سمندری غذا کو کچا کھانے سے پرہیز کریں۔
  •    چھلکوں سمیت   یا  کچی سبزیاں اور پھل کھانے سے گریز کیجیے  ۔
  • گلیوں سے خریدا گیا کھانا اور/یا مشروبات استعمال نہ کریں۔
  • صرف ابلا ہوا پانی پئیں، یا وہ پانی جو پہلے سے ہی کم از کم ایک منٹ کے لیے ابال لیا گیا ہو۔
  • مشروبات میں بازاری برف ڈالنے سے گریز کیجیے۔ گھر میں برف جمانے کے لیے بھی ابلا ہوا پانی استعمال کیجیے۔
  • جن جغرافیائی خطوں میں یہ بیماری اب بھی عام ہے وہاں کے سفر سے پہلے ویکسینیشن کروانا ضروری ہے۔
  • دودھ کی اشیا کھانے سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا جائے  کہ وہ مناسب طریقے پر  حرارت سے گزاری گئی (پاسچرائز کی گئی ) ہوں۔
  • پانی اور انسانی فضلات کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا۔ سیوریج کی نکاسی کے نظام کو درست بنائیں۔
گل زہرہ طارق
گل زہرہ ترجمہ نویس اور بلاگر ہیں۔ سٹیزن آرکائیوز پاکستان سے منسلک ہیں۔ روزمرہ زندگی کے امور اور پلکے پھلکے موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔
http://[email protected]

One thought on “ٹائیفائیڈ بخار”

اپنی رائے کا اظہار کیجیے