انتخابات 2018 سیاست

سیاست کے سینے میں آئین کیوں نہیں دھڑکتا؟

سیاسی قضیے: الیکشن 2018ء کے تناظر میں 

چند برس قبل، میں نے پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتوں کی مختلف دستاویزات دوبارہ دیکھنی شروع کیں، جن میں ان کی طرف سے شائع ہونے والے تجزیات، رپورٹیں، سالانہ جائزے، وغیرہ، شامل تھے۔ یہ چیزیں میرے پاس پہلے سے دستیاب تھیں، کیونکہ میں خود بائیں بازو سے وابستہ رہا تھا۔

ان دستاویزات کے مطالعے کے دوران، جس چیز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا، وہ ’’آئین‘‘ کے ذکر کا مفقود ہونا تھا۔ ان میں قریب قریب تمام دستاویزات 1973ء کے بعد سے تعلق رکھتی تھیں، مگر ان کے پس منظر میں ’’آئین‘‘ کہیں موجود نہیں تھا۔ مثال کے طور پر، پاکستان سوشلسٹ پارٹی، یا مزدور کسان پارٹی کی دستاویزات۔

کیا یہ حیران کن امر نہیں!

سوال یہ ہے کہ کیا آئین کو سامنے رکھے بغیر، کوئی سیاسی گفتگو بامعنی ہو سکتی ہے؟ خواہ آئین کو تبدیل کرنے کی بات ہی کیوں نہ ہو رہی ہو۔ اور اگر یہ گفتگو بامعنی نہیں تو کیا یہ نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔ قطعاً نہیں۔

آج بھی بائیں بازو کی جو بڑی سیاسی جماعت وجود رکھتی ہے، یعنی پاکستان ورکرز پارٹی، وہ آئین کو درخورِاعتنا نہیں سمجھتی۔ اس کا اندازِنظر یہ ہے کہ ہم سوشلسٹ انقلاب برپا کرنے کی خاطر انتخابی و پارلیمانی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں، اور اگر ہمیں یہ محسوس ہوا کہ ہماری یہ جدوجہد باثمر ثابت نہیں ہو رہی تو ہم متشدد انقلاب کی طرف لوٹ جائیں گے۔

دوسری طرف، جہاں تک دائیں بازو کے بیانیے کا تعلق ہے، یہ بھی آئین کو رہنما نہیں مانتا۔ اس میں بھی آئین کو کوئی موثرومقتدر جگہ میسر نہیں ہو پاتی۔

اتفاق سے کچھ روز پہلے (4 مارچ) کے ’’دنیا‘‘ اخبار کے ایک کالم پر نظر پڑی۔ ایک مذہبی عالم نے اپنے کالم میں ایک مذہبی سیاسی جماعت کی مختصر تاریخ بیان کی تھی، اور آئین کا ’’ذکرِخیر‘‘ کہیں مذکور نہیں ہوا۔

بڑے دھارے کی سیاست کا بھی یہی حال ہے۔ خواہ یہ مسلم لیگ (ن) ہو، یا تحریکِ انصاف، یا پیپلز پارٹی، یا کوئی اور جماعت، ہر کسی کو آئین صرف اس وقت یاد آتا ہے، جب ان کے کسی مفاد پر زد پڑتی ہے۔ ان کی سیاست کے سینے میں بھی آئین نہیں دھڑکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے جماعتی آئین اور انتخابی منشور میں آئین کا ذکر جگہ پا جاتا ہے۔

صاف بات ہے کہ جب تک ہر ریاستی، حکومتی اور سیاسی معاملے میں آئین کو رہنما نہیں مانا جاتا، اور ہر قدم پر اس سے رہنمائی نہیں لی جاتی، اس وقت تک پاکستان میں آئین اور قانون کی عمل داری قائم نہیں ہو پائے گی۔ اور جب تک آئین کی بالادستی قائم نہیں ہو گی، پاکستان پرانے اور مزمن امراض سے نجات حاصل نہیں کر پائے گا۔ جن میں سول حکومت کی بالادستی کا مسئلہ بھی شامل ہے۔

تو بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی وہ باندھے گا، جسے شہری اپنے ووٹ کے ذریعے حکومت کا مینڈیٹ دیتے ہیں۔ یعنی سیاست دان۔ قریب قریب سات دہائیاں ہونے کو آ رہی ہیں، سیاست دانوں نے یہ کام نہیں کیا، اور شہریوں اور آئین کے مجرم بنے ہوئے ہیں! وہ یہ کام کب کریں گے؟

 


اس سلسلے کے مضامین ڈاکٹر خلیل احمد کی ویب سائٹ http://www.pakpoliticaleconomy.com پر شائع ہوچکے ہیں۔ نوشتہ کے صفحات پر ان کی اشاعت کے لیے ہم ڈاکٹر صاحب کے شکرگزار ہیں۔

خلیل احمد
ڈاکٹر خلیل سیاسی معیشت دان اور سیاسی فلسفی ہیں۔ وہ وسیع المشرب سوچ کے حامل ہیں اور خود کو اخلاق پسند اور عقلیت پسند گردانتے ہیں۔ انھوں نے پاکستان میں پہلا فری مارکیٹ تھنک ٹینک، آلٹرنیٹ سولوشنز انسٹی ٹیوٹ قائم کیا۔ پاکستان کی سیاسی معیشت اور متنوع مسائل کے بارے میں انھوں نے متعدد مضامین لکھے ہیں۔ وہ "پاکستان میں ریاستی اشرافیہ کا عروج‘‘، ’’سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست‘‘، ’’پاکستانی کشاکش‘‘، Charter of Liberty ، Pakistan’s Democratic Impasse " ، اور ’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو: انسانی معاشرے کی تنظیمِ نو کے اصول‘‘ (دو جلدیں) کے مصنف بھی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے