طنز و مزاح

پاکستانی سیاست اور بریانی

پاکستانی سیاست کا حال بالکل بریانی جیسا ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ۔

یہ خیال ہمارے مرزا کا ہے۔ ہوا یوں کہ کل مرزا نے ہمیں کھانے پر بلایا۔ کہنے لگے ۔ میاں!آج تمھاری بھابھی نے حیدر آبادی بریانی دم پر لگائی ہے پیشتر اس کے کہ اس کا دم نہ نکل جائے فوراً آجاؤ۔

بریانی کا نام سن کر ہم خود کو روک نہ سکے۔ ترنت مرزا کے دولت خانے پہنچے ۔ فرشی دستر خوان تھا۔بریانی کے ساتھ دہی کا رائتہ۔ ہم نے ہر نوالے پر داد دی ۔ مرزا کا پوتا منھ بنائے رہا۔کہنے لگا اصل بریانی تو شان مصالحے کی ہوتی ہے۔ یہ بھی کیا بریانی ہے، زمانہ قدیم کی۔ بادشاہ اکبر کے عہد کی۔ مرزا نے قرات کے ساتھ لاحول پڑھی۔ کہنے لگے یہ نسل تو اسٹوڈنٹس بریانی کھا کر جوان ہوئی ہے۔ بندر کیا جانے ادرک کا سواد۔

آج کل تو بریانی کا حال وہی ہے جو پاکستانی سیاست کا ہے کہیں بمبئی بریانی تو کہیں سندھی بریانی، تو کہیں بلوچی بریانی۔۔۔ اور تو اور حیدرآبادی بریانی، لاہوری بریانی، کوئٹہ بریانی اور کراچی بریانی اور نیشنل بریانی، انٹرنیشنل بریانی وغیرہ  وغیرہ

بریانی نہ ہوئی اردو زبان ہو گئی کہ ہر دس قدم پر مقامی رنگ میں رنگ گئی۔ 

ہم نے مرزا سے پوچھا تم نے پاکستانی سیاست کو بریانی کا نام کیوں دیا۔

بھئی کیا تم نے نہیں دیکھا جب کبھی سیاسی کارکنوں کا اجلاس ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔ ہم نے مئی 2008ء اور جون 2011ء  میں سیاسی کارکنوں کاحال دیکھا ہے کہ رہنما کے جانے کے بعد کس طرح جوتیوں میں بریانی بٹی  تھی ۔ یہ قوم بریانی پر مر مٹنے والی قوم ہے۔

اور مرزا  دھرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے۔؟ وہ بھی تو صرف ایک پلیٹ کی مار پر تھے۔

کہنے لگے ۔ اس قوم کے حوالدار اور چوک پر کھڑے کانسٹیبل کو دیکھا ہے کہ دوپہر میں ایک بریانی کا ڈبہ اور بوتل پکڑا دی جاتی ہے ۔ پھر تو یہی حال ہو گا۔ 

ہم نے کہا مرزا ! تم نے وہ جملہ تو ضرور سنا ہوگا جو غالباً تم جیسوں کے لیے  ہی کہا گیا ہوگا کہ نماز پڑھیے پیشتر اس کہ آپ کی نماز پڑھی جائے۔

اچھا تو آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔

ہم وہ جملہ بتانا چاہ رہے ہیں جو مذاق ہی سہی مگر حقیقت سے کتنا قریب ہے!

آئیے بریانی کھائیں، پیشتر اس کے کہ آپ کی بریانی کھا ئی جائے۔

ہاں ۔ہاں! پہلے تو بریانی صرف شادی بیاہ یا خوشی کی محفلوں یا پھر عیدوں پر بنائی جاتی تھی مگر اب تو کسی کی وفات ہو یا سوئم، بریانی کی دیگ سب سے پہلے پہنچا دی جاتی ہے۔ جب ہم نے اپنی ساس کی وفات پر بریانی کی دیگ دیکھی تو خیال کیا کہ شاید کسی  نے مذاق کیا ہو۔ مگر اب تو خاص طور پر کراچی میں یہ روایت پڑ گئی ہے۔ اشتہاروں میں ایک بچی اس وقت تک نہیں کھاتی جب تک کہ اسے بریانی نہ دی جائے۔ آبادی "قُل” پڑھنے نہیں آتی جب تک بریانی کی خوشبو نہ آجائے۔ رشتے داروں میں ناک سلامت نہیں رہتی اگر بریانی نہ بن پائے۔  اب تو گلی گلی میں بریانی کی دوکانیں نان بائی کی دوکانوں کی  طرح کھل گئی ہیں۔

بھئی مرزا۔ کہتے تو تم بالکل درست ہو۔ بریانی کی بھی سو قسمیں پیدا ہو گئیں ہیں۔ ابھی تم نے اسد عمر کا وہ ٹویٹ تو پڑھا ہوگا جس میں انھوں  نے لکھا ہے کہ بریانی پر ہونے والی ایک رائے شماری پر انھیں دھاندلی قبول نہیں اور تمھیں پتہ ہے رائے شماری یہ تھی کہ بریانی میں آلو ہونے چاہئیں یا نہیں۔

بھئی مرزا۔ پاکستانی سیاست کی طرح بریانی کے بھی کئی رنگ ہیں۔ پتیلا بریانی، دیگی  بریانی، تکہ بریانی، یہاں تک کہ کچے گوشت کی بریانی، ہمیں تو سُن کر ہی ہیک آگئی کہ لو گیس کی ایسی بھی کیا لوڈشیڈنگ کہ اب یہ وقت بھی آگیا۔۔۔ یہاں تک ایک بریانی وہ بھی ہے جو گوشت کے بغیر صرف اس کے مصالحے میں پکائی جاتی ہے۔ آج کل تو کوئلہ بریانی بھی بڑی ان ہے۔

کیا کہنے! ہماری اماں تو سارا پکوان ہی لکڑی پر یا بجھے ہوئے کوئلوں کی گرمی پر کرتی تھیں مگر کوئلہ بریانی اور کوئلہ چائے کی اصطلاح پہلی بار سنی ہے۔

اور کوئلہ بہاری کباب۔۔۔

یہ بھی خوب رہی۔ بھئی بہاری کباب تو سنکتے ہی کوئلوں پر ہیں۔

یہ کوئلوں پر نہیں سینکتے نا۔ پتیلیوں میں پکا کر انھیں کوئلوں کا  دھواں دیا جاتا ہے۔ہم انھیں جعلی بہاری کباب کہتے ہیں۔ اب جب جعلی ڈگری پر لوگ وزارتیں حاصل کرلیتے ہیں تو پھر جعلی کباب بھی چل جائیں گے۔ یہ جو برساتی مینڈکوں کی طرح بریانی کی نت نئی قسمیں نکلی ہیں ان ہی کو کھا کھا کر تو ہماری قوم جوان ہو رہی ہے تو سوچ لو کہیں ایک دن یہ آئی ایم ایف بھی ہمیں بریانی کی پلیٹ سمجھ کر نہ  چٹ کرلے اور ہم ان کا تر لقمہ بن جائیں۔ 

مرزا اداس ہو گئے۔ کہنے لگے میں تو وصیت کر جاؤں گا کہ میری وفات اور سوئم پر بریانی نہیں ہوگی۔

ہم نے ذرا پیچھے کو کھسکتے  اور راہِ فرار اختیار کرتےہوئے کہا، "ایسے کرو گے تو کون آئے گا۔۔۔!!! ”

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے