متفرقات

ہماری ناپید ہوتی انسانی اور اخلاقی قدریں


مہذب معاشروں کی پہچان ان کی  بہترین اخلاقی قدروں سے ہوتی ہے۔  اخلاقیات کا دامن تھام کر رکھنے والی قوميں کامیابیاں اور کامرانیاں سمیٹتی ہیں جبکہ اخلاقی قدروں کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ان کی تنزلی کا سفر بھی شروع ہو جاتا ہے۔  

مہذب معاشروں میں ہر عمل اور فعل تہذیب و اخلاقیات کے دائرے ميں رہ کر کیا جاتا ہے۔  وہاں اخلاقیات کے دامن کو کبھی نہیں چھوڑا جاتا۔  سرعام گالی گلوچ اور لعن طعن کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔  بغیر ثبوت الزام لگانے پر قانون فوری طور پر حرکت میں آ جاتا ہے۔  ہتک عزت کے سخت  قوانين کی وجہ سے بھی بلاوجہ اور بغیر ثبوت کے الزام تراشيوں کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔  بار ثبوت الزام تراشی کرنے والے کے سر پر ہوتا ہے۔  

بد قسمتی سے ہم روز بروز اخلاقی انحطاط کا شکار ہوتےجارہے ہیں۔  آج ہمارے ہاں اخلاقیات اور اخلاقی قدروں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔  گالی گلوچ،لعن طعن اور بغیر ثبوت الزام کا کلچر عام  ہوچکا ہے۔  ہر کوئی دوسرے کے پیچھے پڑا ہے۔ گھروں، بازاروں، دفاتر اور اجتماعات الغرض ہر جگہ ایک عجب سی افراتفری ہے۔ حتیٰ کہ کوچۂ سیاست میں بھی طوفانِ بدتمیزی برپا ہے۔  ہر جگہ "میں میں” کی گردان ہے اور دوسرے کے لیے برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔  ہر کوئی دوسرے کے سر پر پاؤں  رکھ کر کامیابیاں سمیٹنے کے چکر ميں ہے خواہ اس کے لیے کیسا ہی منفی ہتھکنڈا ہی نہ استعمال کرنا پڑے۔  

ترقی یافتہ، مہذب اور فلاحی ممالک کو دیکھیں تو پتہ چلتاہے کہ وہاں ہر انسان کو برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ انصاف سب کے لیے یکساں ہے۔  بڑے چھوٹے اور امیر غریب میں کوئی فرق روا نہيں رکھاجاتا۔  بچوں،عورتوں اور بزرگوں کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔  انسانيت کو رنگ، نسل، مذہب اوربرادری پر فوقیت دی جاتی ہے۔

ہمارا پیارا دین اسلام بھی ہمیں ایسا ہی درس دیتا ہے۔  انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے۔ عورتوں، بچوں، مردوں اور بزرگوں کے بارے ميں واضح اور مفصل احکامات موجود ہیں۔  کسی عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر فوقیت دیے بغير انسانیت کو فوقیت دی گئی ہے۔  انصاف کے ترازو میں سب کو برابر تولنے کے واضح احکامات موجود ہیں۔

لیکن جب وطن عزیز کی طرف دیکھیں تو  ایک اسلامی معاشرہ ہونے کے باوجود  یہاں انسان اور انسانیت کے بے وقعت ہونے کا احساس شدید سے شدید تر ہو جاتا ہے۔  رنگ ، نسل، برادری، مذہب اور مالی حیثیت کو انسانیت پر فوقیت دی جاتی ہے۔  اخبارات کے صفحات انسان اور انسانیت کی تذلیل کےواقعات سے بھرے ہوتے ہیں۔  انصاف بھی سب کےلیے  برابر نہیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اغیار کی برائیوں سے تو فوراً متاثر ہو جاتے ہیں مگر ان کی خوبیوں اور اچھائیوں پر آنکھیں موند لیتے ہیں۔ ہم یہ توچاہتے ہیں جادو کی چھڑی سے سب حالات بہتر ہوجائیں، شیر بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں، حق کا بول بالا اور انصاف عام ہوجائے  لیکن اپنی خامیوں کا ادراک نیز خود کو بدلنے پر بھی ہم تیار نہیں۔ ہم ترقی یافتہ ممالک اور نہ ہی دین اسلام کے معاشرتی نظام کو اپنا سکے۔ حکومت کے ایوانوں، سیاست کےمیدانوں سے لے کر ایک عام آدمی کی زندگی میں  ہم نظریۂ ضرورت اور مفادات کے تحفظ کے اصول پرکاربند رہے ہیں۔

قارئین، اخلاقیات اور اخلاقی قدروں کا دامن چھوڑ کر کامیابی کا تصور بھی محال ہے۔  جہاں حکومت  کے سخت قوانين کے ذریعے اخلاقی گراوٹ پر کسی حدتک قابو پایا جا سکتا ہے وہيں معاشرے کے ہر فرد کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنا اور دوسروں کا یکساں و مساوی محاسبہ کرے اور ایک کامیاب و کامران معاشرے کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالے۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے