کتب خانہ

محبت کی کتاب – اکتالیسویں قسط

ظفراحتشام اصل میں کون ہے؟

[ایک مونتاژ]

ظفر کے باپ کو

ایک ایسی لڑکی سے محبت ہوگئی تھی

جو کسی اسکول میں انگلش کی ٹیچر تھی

وہ شیلے، کیٹس، ملٹن کے علاوہ میر و غالب کی بھی رسیا تھی

اگرچہ راشدہ لاہور کے ایک عام سے کمہار عبدالرب کی بیٹی تھی

مگر قدرت نے اس کو سوہنی جیسی عقل و مت

 صاحباں کی سی بے خوفی

 غرورِعشق وارث شاہ والی ہیر کے جیسا

متانت اور ذہانت، شکل و صورت اور اظہارِمحبت کا

 سلیقہ شاعرہ پروین شاکر کا سا بخشا تھا

جو سب سے پہلی چیز اُس نے

خود اپنے ہاتھ کے لمسوں سے گھڑ کر

گردشوں میں رہنے والے چاک پر سے

ایک دھاگے کی مدد سے کاٹ کر

آہستگی کے ساتھ

اپنی اوک میں بھر کر اُتاری تھی

وہ دل کی شکل جیسا اک دیا تھا اور جسے بابا سے کہہ کر

اُس نے بھٹی میں سلگنے سے بچایا تھا

 خود اپنے ہاتھ سے گوندھی ہوئی مٹی کی خوشبو

 چاک کی گردش

ہتھیلی

انگلیاں

 اور اُن کی پوروں میں چُھپی

اشکال کو تجسیم کرنے کی فسوں کاری

یہ سب اپنی جگہ لیکن اُسے پڑھنے پڑھانے کا مرض بھی تھا

سو آخر علم کو زیور سمجھ کر چاک کی گردش سے

جلدی ہی نکل آئی

…*…

کتابیں، کاپیاں، پنسل، قلم اور روشنائی

الغرض سب مل کے اس کو اک نئی دنیا میں لے آئے

یہ دنیا احتشام الحق کی دنیا تھی

وہ اُس اسکول کا مالک تھا جس میں راشدہ انگلش

       پڑھاتی تھی

کسی سالانہ فنکشن میں کوئی ایوارڈ دیتے وقت اس

نے راشدہ کو اپنا دل بھی دے دیا تھا

مگر شادی کا سن کر

 احتشام الحق کے ڈیڈی نے جب اس کے سامنے انکارکی دیوار اٹھائی تو وہ باغی ہوگیا

 اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر اپنے محبت زار کی خوشبو

میں آبیٹھا

…*…

ظفر اگلے برس دنیا میں آیا

اور کچھ دن بعد

احتشام الحق کے ڈیڈی کے ملازم، چند غنڈے، مل کے نکلے

اُس حسیں جوڑے کو ڈھونڈا

اور بالآخر مار ڈالا

 ظفر جو مرنے والوں کی محبت کی نشانی تھا اسے

غنڈوں کے لیڈر نے اٹھا کر دادا کی جھولی میں

لا پھینکا

…*…

ظفر گرچہ نازونعم میں پلا تھا

مگر وہ بہرحال ماں باپ کے بِن پلا تھا

عجب تشنہ لب تھا

کہ جس کے بدن پر نہ ماں باپ کے لمس کا کچھ نشاں تھا نہ سر پر کوئی آسماں تھا

اُسے یہ بتایا گیا تھا کہ ماں باپ اس کے کسی خاندانی

وارثت کے جھگڑے میں مارے گئے ہیں

مگر اس کی آیا نے اک دن اُسے

اُس کے ماں باپ کا اصل قصّہ بتایا تو وہ وحشتی ہو

کے گھر چھوڑ آیا

…*…

کراچی آکے اُس بے خانہ و آزاد نے محنت بہت کی

دن کو دفتر، شام کو کالج

گزرتے وقت کے پہیّے میں اُس کے پاؤں کا چکر بھی شامل تھا

ابھی دو سال پہلے اُس نے M.B.A کیا

اور چند ہفتوں بعد ہی

ایک اشتہاری کمپنی کے شعبۂ ہائے مارکیٹنگ میں

نوکری کرلی

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے