کتب خانہ

محبت کی کتاب – چالیسویں قسط

اماں جانی اور سنبل

ایک لمبی اور ذاتی تجربوں کے

 درد میں گوندھی ہوئی جب ڈھیر ساری دل کی باتیں

کررہی تھیں

 تو اُدھر بک شیلف میں

ملٹن سے ایزرا پاؤنڈ تک اور میر و غالب سے ندیم و فیض

اور پروین شاکر تک

سبھی چپ سادھ کر دونوں کو تکتے جارہے تھے

اماں جانی کے چلے جانے کے بعد

 اِن سب نے سنبل کی طرف دیکھا

جو دل دریا سے ڈوہنگی خامشی میں ڈوبی جاتی تھی اور آنکھیں جس کی، خالی قبروں کی مانند ویراں ویراں ہو رہی تھیں،جب ظفر کی نظم والا چرمرا کاغذ ہتھیلی

کھول کردیکھا تھا سنبل نے

اِسی حالت میں بیٹھے بیٹھے سنبل نے

ظفر کو ایک messageمیں لکھا

بس اب یہ آخری ہچکی ہے جانِ جاں

تمھاری طرف کی

آدھی محبت کا احوال سن کر

جو میری طرف کی تھی آدھی محبت

وہ مرگئی ہے

جنازے میں کوئی نہیں تھا

فقط میری نظمیں تھیں

نظموں کے مصرعوں نے مل کر صفیں باندھ لی تھیں

دلِ جاں بہ لب نے جنازہ پڑھایا

جنازہ اٹھایا گیا تو وہ کہرام…

لیکن…

[اچانک ظفر کی طرح سنبل افرازکا

لہجہ بھی تُندہوتاگیا]

یہ سب… میں… تمھیں کیوں بتاؤں!

محبت تو میری ہے

میں نے اُسے اپنے ہاتھوں سے مارا ہے

میں اس کی قاتل ہوں

تم کو بھلا اس سے کیا

اور تمھارا تعلق بھی کیا

تم نے اپنی طرف کی محبت کو گر ventilator پہ رکھا ہوا ہے

   تو رکھے رہو

لیکن اک بات کہہ دوں

محبت کبھی ventilatorکے بل پر مری جان زندہ نہیں رہتی ہے

ابھی اُس نے message نہیں send کیاتھا

ابھی اس نے لکھا تھا

لکھ کر پڑھا اور سیل فون کوسائیڈ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے اک تذبذب بھری  کیفیت  میں بہت دیر تک

یوں ہی بیٹھی رہی

اچانک پھر اس کیفیت سے نکلتے ہوئے

 اُس نے send کے بٹن کو دبایا

سسکتے ہوئے ایک تکیے کو منھ  پر رکھا

اور پھر دیر تک ہچکیاں آنسوؤں کی روانی میں بہتی رہیں

اس کے کمرے میں برش، رنگ اور کینوس

کچھ کتابیں، رسالے، خطوط

اور بہت ساری یادوں کے جگنوں تھے جو اپنی اپنی جگہ یوں ہی ساکت پڑے اُس کو تکتے رہے

رات کا جانے وہ کون سا پہر تھا

جب وہ اٹھی

اور اس سارے بکھراؤ کے بیچ میں سے گزر کر

وہ اُن سینیوں تک گئی

جن میں فخر الزماں کے بڑوں کی طرف سے

بھیجی گئی

بیش قیمت جیولری ابھی تک وہیں میز پر

ویسی کی ویسی پڑی تھی

وہ آگے بڑھی

ایک ڈبہ اُٹھایا

تو سنبل کا سیل فون اک beep کی sound

سے سنسنا ساگیا

 ابھی اس نے ڈبے کو کھولا نہ تھا

beep کی sound سن کربہت دیر تک

ایک پتھر کے بُت کی طرح

 سنبل افراز سانسوں کو روکے ہوئے منجمد ہو گئی

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے