طنز و مزاح

مونچھ نامہ

سارے مردوں کی طرح ہمیں بھی اپنی مردانہ خوب صورتی پر ناز ہے، اور ناز بھی کیوں نہ ہو، ہمارے پاس دو عدد اور بحیثیت مجموعی ایک عدد گھنی سیاہ تاؤ دار مونچھیں جو ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ مونچھ تو مرد کی شان، آن، بان، پہچان، مان، پران، جان اور کبھی کبھی بلائے جان بھی ہوا کرتی ہے، اف ! ایسا حسن جو سنبھالے نہ سنبھلتا ہو۔ تو بس ہمارے لیے بھی ہماری مونچھیں ایسی ہی تھیں جو باتوں سے نہیں بنتیں۔

ویسے تو ہم ہمہ صفت موصوف ہیں۔ ایک مونچھ پر ہی کیا موقوف، ہم تو سراپا وجاہت کا پیکر ہیں، پانچ فٹ سے کچھ نکلتا قد، چھریرا بدن ،گو جسم کا سارا گوشت پیٹ پر مرتکز ہوگیا ہے لیکن یہ بھی معاشی بےفکری کی علامت گردانی جاسکتی ہے، اور پھر دل کا راستہ جس شاہراہ سے ہوکر گزرتا ہے اس کی وسعت پر ہم کو کیا اعتراض۔ فارغ”البالی “ سے لے کر” شبِ دیجور سی رنگت” تک ہم یقیناً کسی بھی دل کو گھائل کرنے کے تمام لوازمات سے بھرپور ہیں۔ آخر کرشن جی سانولیا بھی تو ہزاروں گوپیوں کے دل کی دھڑکن تھے۔ اپنے حسن کے نشے میں چُور مونچھوں کو تاو دیتے جب ہم اپنی گلی سے گزرتےہیں تو چشم تصور کیا کیا نہ نظارے دکھاتی ہے۔ دروازوں، کھڑکیوں، بالکونیوں، چھتوں کے کناروں، چھجوں، پردوں کی جھریوں سے جھانکتی کئی ناریاں اور ان کی باآواز بلند صدائیں” وے سب توں سوہنیا، ہائے وے من موہنیا “ ۔۔۔ گانا توذرا پرانا ہوگیا پر کیا کیجیے یہ ا ٓج کل کے نکمے شاعر گلوکار ایسا قصیدہ مردانہ حسن کی شان میں لکھ ہی نہیں پائے۔ ان کو خواتین ہی سے فرصت نہیں ملتی ، بیٹھے فالتو کے چاؤ اٹھاتے ہیں۔ مغرب سے سبق لیں، واہ اہل مغرب! وہ تو اب’دل دھڑکانے کے لیے ‘ اس ناری جال سے آزاد ہوچکے ہیں۔ سنا ہے ہم جیسے بانکے سجیلے بھی انہیں خوب بھاتے ہیں۔

ہم اپنے حسن کا تمام تر کریڈٹ اپنی مونچھوں کو دیتے ہیں، لہٰذا گھڑی گھڑی ان کو تاؤ دینا بھی ہمارے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ روز صبح تیل پانی سے کس کر مالش، مونچھوں کی، اور پھر ان کے کنارے موڑتے جانا کہ وہ خوب خم دار ہوجائیں اور جا کر ٹھک سے حسیناوں کے دل میں پیوست ہوجائیں۔ ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ ہمارے غیاب میں ہمیں’ مونچھ مروڑا روٹی توڑا ‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی حاسدین کی کوئی سازش ہی رہی ہوگی۔

مونچھیں ہماری محافظ بھی ہیں اور ممکنہ محسن بھی۔ کبھی کبھی ہم سوچا کرتے ہیں کہ آندھی اور طوفان بلاخیز میں جب لوگ اپنے گھروں میں حفاظت کے خیال سے بند ہوتے ہیں ہم بنا جھجکے باہر نکل پڑتے ہیں،’جانتے ہیں کہ ہے موجود حفاظت کو مونچھ، یہ وزن دار مونچھ ہمارے منحنی وجود کو سنبھالے رکھےگی۔ اور اگر موج ہوا اڑا لے چلی تو یہ پردار مونچھ ہمیں اڑا کر کسی مہ رخ کے محل پر بحفاظت’ لینڈ’ کروا دے گی، اور پھر ہم ہوں گے اور الف لیلی یا طلسم ہوشربا جیسی ہوش اڑانے والی عیش و نشاط اور شباب و رباب کی محافل۔

مونچھ کا یہ بھرم آج سے نہیں بلکہ صدیوں قرنوں سے چلا آرہا ہے، قدیم صحیفوں اور تاریخ کی کتب سے مونچھوں کے قصے چلے آرہے ہیں۔ اجنتا کے غاروں سے لے کر سندھ و ہند کی تہذیب تک جہاں کہیں مردانہ جاہ و جلال، شان و شوکت، امارت، جرات، شجاعت، لیاقت، سیادت، قیادت، الفت، اور کہیں’خفت ‘ کے قصص ملے ہیں وہاں رخ روشن پر مونچھ ضرور پائی گئی۔ آج بھی پانچ آٹھ ستارہ ہوٹل ہوں یا بڑی بڑی ‘ایمپائرز’ کے دروازے پر سجاوٹ کو ایک عدد مونچھ بردار دربان لازمی ہوتا ہے۔ یہی نہیں واہگہ کی سرحد پر بھی دشمن پر رعب جمانے کو دونوں جانب مونچھ دار سپاہی موجود۔

مونچھیں مرد کی شان، ان کا بطور مرد شناختی کارڈ اور ان کی جوانی کی علامت ہیں۔ مرد کے پاس اپنی مردانگی کے ثبوت میں کھلےعام دکھانے کو مونچھ کے سوا اور ہے ہی کیا۔ کسی زمانے میں جب مسیں بھیگتی تھیں، اور ہرا سبزہ نمودار ہوتا، لڑکیاں شرمانا کترانا اور عورتیں جان بوجھ کر ٹکرانا شروع ہوجاتی تھیں۔ کہتے ہیں کہ اماں باوا مونچھوں کے کونڈے کی تاریخ رکھتے، احباب اکٹھا ہوکر جوانی میں قدم رکھنے کی مبارک سلامت دیتے، کچھ’گُر ‘ کے نسخے گوش گزار کرتے۔ یعنی مونچھیں آتے ہی لڑکا سب مردوں کی مونچھ کا بال بن جاتا۔

مونچھوں کے حسن و جملہ خصائص پرکیا کیا نہ محاورے بنائے گئے ہیں، مونچھیں ہیں یا روشن چراغ یا مونچھ نہیں مانو نیبو ٹکا ہے۔ انا کی جنگ ہو تو مونچھ کی لڑائی، خطرہ سامنے آئے تو مونچھیں کھڑی ہونا، مار کھا ئی تو مونچھیں نچوانا، جیت ضروری ہے کہ مونچھوں کی لاج رکھنی ہے اور دشمن پر فتح یاب ہوگئے تو اس کی مونچھیں زیر کر دی گئیں اور اپنی مونچھیں اونچی ہوگئیں۔

مونچھوں کی اٹھان سے مرد کی تند جوانی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ کسی اور اکڑی ہوئی پرغرور مونچھیں جوانی ڈھلتے ڈھلتے خود بھی نیچے کی جانب سرکتی جاتی ہیں اور اگر شادی کرلی جائے تو یکدم لٹک بھی جاتی ہیں یا پھر استرے کی زد میں آجاتی ہیں۔ہم بے مُلکے نواب سہی، ہماری گھنی مونچھیں اندرونی ٹھرک کی آشکار سہی، ان کا جلال و دبدبہ رہتی دنیا تک قائم رہنے والا سہی ، لیکن ___ کب تک خیر منائیں گے کبھی تو شادی کے استرے تلے آئیں گے۔

پس نوشت: اس مضمون کی تیاری کے دوران کسی کی مونچھ کا بال بھی بیکا نہیں ہوا۔

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے