مقامات نقطۂ نظر

میرا حیدرآباد – حصہ سوم

حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کا ذکر اس کی صنعتی نمائش کے بغیر ادھورا ہے۔ میں نے اس نمائش کو کب دیکھا تھا مجھے یاد نہیں۔ شاید میں اماں کی گود میں تھی یا پھر شاید میں نے پاؤں پاؤں چلنا سیکھا تھا۔ ہوش آیا تو دیکھا کہ دنیا خود ایک تماشا گاہ ہے۔ خیر میں نے کہیں پڑھا تھا کہ حیدرآباد کی صنعتی نمائش کی طرح دنیا میں کوئی اور نمائش گاہ نہیں۔ اب اس میں کہاں تک سچائی ہے یہ بات وہ لکھنے والا ہی بہتر جانتا ہے۔ اب تو ایسی نمائشوں کی نہ کوئی ضرورت دکھائی دیتی ہے اور نہ اہمیت۔ اس الیکٹرونک دور میں پروڈکٹ کی تشہیر مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ مگر اس زمانے میں اس طرح کی نمائشوں کی ازحد ضرورت تھی۔ تاکہ عوام کو جدید ترین ایجادات سے نہ صرف واقف رکھا جائے بلکہ ان کی طرف راغب بھی کیا جائے۔

اس نمائش کی ضرورت کا ادراک سب سے پہلے جامعہ عثمانیہ کے کچھ اسٹوڈنٹس نے کیا۔ اور اس کی ابتدا صرف سو دکانوں سے کی جن کی تعداد آگے بڑھتے بڑھتے ہزاروں تک پہنچ گئی۔ یہ نمائش گاہ ایک وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس میں داخل ہونے کے تین یا چار گیٹ تھے۔ جو چار محلوں کا احاطہ کرتے تھے۔ ان میں سے تین کے نام مجھے اب بھی یاد ہیں۔ ایک تو گوشہ محل گیٹ تھا۔ دوسرا اجنتا گیٹ اور تیسرا گیٹ گاندھی بھون گیٹ تھا۔ یہ نمائش نام پلی اسٹیشن کے قریب تھی۔ نمائش جنوری کے خوش گوار موسم میں منعقد کی جاتی اور فروری کے وسط تک جاری رہتی۔ ہفتے میں ایک دن صرف بچوں کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ اس طرح ایک دن عورتوں کے لیے۔ باقی دن فیملیز کے لیے مخصوص تھے۔ مگر صرف مردوں کے لیے کوئی دن مخصوص نہیں تھا۔

نمائش کا آغاز شام سے ہوتا تھا۔ اور رات گئے تک یہاں رونق لگی رہتی۔ ہمارے گھر میں باجیاں اور خالائیں اس کی تیاری ہفتوں پہلے سے ہی شروع کر دیتیں۔ ڈوپٹوں کو نئے رنگ دیے جاتے۔ خوب کلف دے کر ان پر ابرق چھڑکی جاتی اور چنٹ ڈالی جاتی۔ جب یہ دوپٹے کھلتے تو ستاروں کی طرح جگمگاتے۔ ہاتھوں میں نئی چوڑیاں اور کانوں کے لیے بالے۔ نمائش کے میدان میں سر شام پانی کا چھڑکاؤ ہوتا اور پوری فضا میں مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو سرایت کر جاتی کہ خواہ مخواہ ہی گہری سا نس لینے کو دل چاہتا۔ شام ہوتے ہی لوگ جوق در جوق اس طرف چل پڑتے۔ ہنستے مسکراتے خوبصورت لوگ۔ خوش باش دنیا کے جھمیلوں سے آزاد۔ نمائش میں ہندوستان کے ہر بڑے شہر کی صنعتوں کی دکان ہوتی۔ کشمیر کی دست کاری ہو یا پھر لکھنؤ کی چکن کاری۔

کھانے پینے کے اسٹال تو ہوتے ہی تھے مگر سب سے زیادہ رونق اس جگہ ہوتی تھی جہاں ایک آدمی اپنے کپڑوں میں آگ لگا کر بلندی سے نیچے ایک پانی سے بھرے حوض میں چھلانگ لگاتا تھا۔ شاید اس کا وقت رات میں نو بجے تھا۔ لوگ وقت قریب آتے ہی جوق در جوق اس طرف کا رخ کرتے۔ تاکہ جگہ مل جائے۔ آج یہ پڑھ کر ہنسی آتی ہے۔ اس لیے کہ ایسے تماشے کراچی میں تو آئے روز ہوتے ہیں۔ کبھی بہو جل کر راکھ ہو جاتی ہے تو کبھی کاروکاری کے نام پر بیٹیوں بہنوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ مگر اس دور میں ہم نے ایسا ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ ہم اس کے تمام عمل کو نہایت دل چسپی سے دیکھتے۔ لو یہ دیکھو۔ اس نے خود پر پٹرول چھڑکا۔ ماچس کی تیلی جلائی۔ اور جب اس کے بدن کے چاروں طرف شعلے بھڑکنے لگے تو اس نے چھلا نگ لگا دی۔ اس کے چھلانگ لگاتے ہی لوگوں کی چیخیں نکل جاتیں۔

نمائش کی دوسری بارو نق جگہ موت کا کنواں تھی اور یہ موت کا کنواں دراصل ایک سیمنٹ کا کنواں تھا جس کی دیواروں پر ایک لڑکی موٹر سائیکل چلاتی تھی۔ ہم اس کو بھی بہت شوق سے دیکھتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں کمیونزم زور پکڑ رہا تھا۔ نمائش میں روسی اسٹال بھی تھا جہاں روس کی ترقی کو پوسٹرز کی مدد سے دکھایا جاتا تھا۔ ہمارے خاندان میں کمیونزم کا بڑا چرچا تھا۔ میرے چچا،ماموں اور بہنیں سب کمیونزم کی طرف مائل تھیں۔ نمائش کے روسی اسٹال پر میری تینوں بہنیں رفعت باجی،شوکت باجی اور شاہدہ باجی  والنٹیر تھیں۔ نمائش صرف اسٹال پر منحصر نہیں تھی۔ یہاں پر ثقافتی شوز کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔ کہیں بھرت ناٹیم تو کہیں شامِ غزل، کہیں مشاعرہ تو کہیں بھانڈ اور مسخرے جگتیں سنا رہے ہوتے۔ میں نے شاید 1959ء میں پہلی بار ٹی وی دیکھا۔ ٹی وی کیا تھا۔ قریب ہی ایک کمرے میں تصویریں کھینچی جارہی تھیں جس کو آپ کھلے میدان میں پردے پر دیکھ رہے تھے۔ یہ طلسماتی لگتا تھا۔ نمائش کیا تھی ایک جادوئی دنیا تھی۔

ہم لوگ جب ورنگل منتقل ہوئے تو ہمارے ساتھ ساتھ یہ نمائش بھی آگئی۔ اگرچہ اس نمائش میں گویا “مولوی مدن والی” کوئی بات نہ تھی۔ مگر ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی بہت ہوتا ہے۔ ہم پڑھ رہے تھے۔ این سی سی نے بہ حیثیت  والنٹیر وہاں پر متعین کیا تھا۔ اچھا خاصا الاؤنس ملتا جو ہم اڑا دیتے۔ سنا ہے نمائش اب بھی لگتی ہے۔ لوگ اب بھی جاتے ہیں۔ اور جاتے رہیں گے۔ لیکن ساغر کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں۔۔۔

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

One thought on “میرا حیدرآباد – حصہ سوم”

اپنی رائے کا اظہار کیجیے