سیر و سیاحت لائف اسٹائل مقامات نقطۂ نظر

میرا حیدرآباد (حصہ اول)

حیدرآباد  کا ذکر جب بھی آتا ہے تو مجھے داستان امیر حمزہ کی مشہور داستان  کے کوہ ندا  کی یاد آتی ہے۔ داستان کے مطابق یہ ایک پہاڑ ہے جس سے متواتر ایک صدا آتی رہتی  ہے اور جو  اس صدا پر اپنے راستے سے پلٹ کر اس پہاڑ کی جانب دیکھتا ہےوہ اس کی طرف ہی کھینچتا چلا جاتا ہے۔۔ اور پتھر بن جاتا ہے آج میں بھی تو جیسے اس کوہِ ندا کی جانب چل پڑی ہوں۔

         حیدرآباد کو چھوڑے نصف صدی بیت گئی۔ گوکہ ان گزرے ماہ و سال  میں ایک بار بھی میں وہاں نہ  جا  سکی۔ مگر وہ میری ہر آتی جاتی سانس میں زندہ ہے۔ حیدرآباد چھوڑنا، اور پھر من ہی من  میں ہمیشہ کے لیے وہیں کہیں رہ جانا! جیسے کل ہی کی تو بات ہو۔

اب میں کراچی میں ہوں اور کہنا یہی ہے:

     اس شہر میں سب کچھ ہے میسر مجھے لیکن

       کیا لوگ تھے وہ جو یہاں پائے نہیں جاتے۔

حیدرآباد جنوبی ایشیا  میں مشرقی تہذیب کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اس کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کا رنگ سب سے جدا اور نرالا ہے۔ یہاں کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعہ عثمانیہ  ہے جو اردو زبان کا مرکز ہے۔اس یونیورسٹی کے توسط سے حیدرآباد  نے اردو زبان کے فروغ میں بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ میں جس زمانے کا ذکر کر رہی ہوں اس وقت حیدرآباد  کے ریلوے اسٹیشن، دفاتر، اسکول اور دوکانوں کے نام اردو ہی میں لکھے جاتے تھے۔وہاں کے مقامی باشندے جو اردو بولتے   اس میں مٹھاس اور شیرینی گھلی ہوئی  ہوتی۔اگر کسی بات کا جواب اثبات میں ہو تو  ہؤ  اور نفی میں ہو تو  نکو  کہا جاتا اور گردن کو دائیں بائیں ہلا کر جواب دیا جاتا ۔

مجھے یاد ہے کہ ہم جس محلے میں تھے وہ ملا پلی کہلاتا تھا۔ ہمارا مکان فانی گراؤنڈ میں تھا۔اس نام کی وجۂ تسمیہ یہ تھی کہ یہاں فانی بدایونی بھی کبھی رہائش پذیر تھے۔ ہمارا محلہ ادبی چہل پہل کا مرکز تھا۔ اگرچہ   میں نے فانی کو نہیں دیکھا  تاہم ابا سے ان کی بہت دوستی تھی۔ ابا خود بھی شاعر تھے اور انجم تخلص کرتے تھے۔ فانی کی سنگت میں ابا کی شاعری اور نکھر گئی۔ کچھ ہی فاصلے پر جیلانی بانو کا گھر تھا جنھوں نے نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا۔ ہمارے محلے میں مشاعرے بھی ہوتے تھے جن میں جگر مراد آبادی اور حیرت بدایونی بھی شرکت کر چکے تھے۔ میرا بچپن اسی ادبی ماحول میں گزرا۔

اس زمانے میں  حیدرآباد کی اپنی  منفرد ثقافت تھی۔ آج کے حیدرآباد اور اس زمانے کے حیدرآباد میں غالباً  زمین آسمان کا ہی فرق ہے۔ تب ہندو اور مسلمان مل جل کر رہتے تھے۔ ہولی دیوالی ہو یا شب برات، کبھی کوئی نا چاقی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ہولی میں اگر ہندو مسلمانوں پر رنگ پھینکتے تو کوئی فساد نہیں ہوتا تھا۔اسی طرح دیوالی میں مسلمان بھی اپنے گھر کی چھت اور منڈیر پر دیے روشن کرتے۔ ہولی، دیوالی اور محرم کو منانے کا ایک خاص انداز تھا۔ محرم میں ہندو بھی تعزیوں پر ہار پھول، بتاشوں اور ناریل کے ہار چڑھاتے  اور منت مانگتے۔ ہولی اور دیوالی میں محلے بھر میں گویا  بہار آجاتی۔ نچلی ذات کے ہندو جنھیں دھیڑ کہا جاتا تھا وہ عجیب عجیب سوانگ بھرتے تھے۔ ہمارے گھر کام کرنے والا لال بڈھا اور اس کی بیوی کبھی تو شیر کا روپ دھارتے اور کبھی کچھ اور۔ پورے چہرے اور بدن پر رنگ مل کر وہ تماشا دکھاتے۔

پورے ہندوستان میں صرف دو شہر ایسے تھے جہاں محرم بھر پور طریقے سے منایا جاتا تھا ایک لکھنؤ اور دوسرا حیدرآباد۔ حیدرآباد  میں محرم کو بھرپور انداز میں منا نے کی تاریخ بہت پرانی ہے مگر سلطنتِ عثمانیہ میں تو یہ عروج پر تھا۔ میں نے حیدرآباد کا محرم دیکھا ہے۔ خاص طور پر بی کا علم ٭۔ اس کی اپنی سج دھج تھی۔ یہ بی بی کے الاؤ سے برآمد ہوتا اور چار مینار پر پہنچتا۔ میر عثمان کی فوج اس کی نمائندگی کرتی۔  بی کے علم کی سواری ہاتھی پر نکلتی تھی۔ اس ہاتھی کی اپنی سج دھن تھی،  شاہی زربفت سے جگ مگ کرتا۔مہاوت کے سر پر شاہی چھتری ہوتی تھی۔ ہاتھی کا پورا جسم گہنوں سے لدا رہتا تھا۔ یہ ایک ہتھنی تھی جس کا نام رجنی تھا۔ اس کی آنکھوں سے مستقل پانی بہتا رہتا۔ کہا جاتا تھا کہ حضرت امام حسین کے غم میں اس کی آنکھوں سے  آنسو بہہ رہے ہیں۔ بی کے  علم میں ہیرے جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ میر عثمان نے چھ ہیرے نذر کیے تھے۔ اور بھی پتہ نہیں  کن کن  نوابوں اور امیروں نے سونے کے گہنے چڑھائے تھے۔

بی کے علم کے بعد علی اصغر کا جھولا ہوتا تھا اور پھر ماتم کرنے والے۔ ماتم کرنے والے مدہوشی کے عالم میں چاقو اور چھری کے وار اپنے بدن پر کرتے چلے جاتے۔ نوحہ خواں مرثیے  پڑھتے۔ راستے میں جگہ جگہ پانی اور شربت کی سبیلیں لگائی جاتی تھیں۔ چار مینار کے اطراف کی عمارتیں اور گھر مہینوں پہلے ہی ریزرو ہو جاتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پورا حیدرآباد  چار مینار پر امڈ آتا تھا۔ سڑکوں کے دونوں طرف لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ جمع ہوجاتے تھے۔ صرف سر ہی سر نظر آتے۔ پتہ نہیں پورے شہر میں یہ جلوس کہاں کہاں سے گزرتا۔گھروں کی چھتوں پر، بالکونیوں میں، جھروکوں میں اور کھڑکیوں پر، ہرجگہ  صرف لوگ ہی لوگ ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ مجھے بھی یہ موقع ملا جس کا مجھے بڑا اشتیاق تھا۔ شاید وہ 1965ء کا زمانہ تھا جب میں چادر گھاٹ میں اپنی ایک دوست کے گھر پر تھی اور یہ سارانظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

       یہ تو صرف بی کے علم کی بات تھی ورنہ ہر محلے میں علم اور تعزیے بٹھائے جاتے۔ ہمارے محلے میں نعل حضت (حضرت) نامی علم استادہ کیا جاتا تھا۔ ہم جب بھی موقع ملتا وہاں پہنچ جاتے۔ کیا ہندو اور کیا مسلمان  سب اس ماہ کا بڑا احترام کرتے۔

حیدرآباد میں ایک اور تہوار تلسنکرات کا ہوتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ کسانوں کا تہوار تھا۔اس کو پتنگوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ اس دن ہندو اپنی گائے اور بیل کو خوبصورت رنگوں سے رنگتے اور ان کے سینگوں کی سجاوٹ موتیوں اور سیپیوں سے کرتے تھے۔ نئی د لہنوں کے میکے سے پیتل کے تھال میں داماد کے لیے پتنگ، چرخی، ڈور اور حلوہ آتا تھا۔پورا آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سج جاتا۔ یوں لگتا جیسے آسمان پر پریاں اڑ رہی ہوں۔

حیدرآباد کی اپنی مخصوص ثقافت اور تہذیب تھی۔ اگر کسی مرد کو اپنے گھر کی چھت پر چڑھنا ہوتا تھا تو باقاعدہ اس کا اعلان با آواز بلند کیا جاتا اور الفاظ ہوتے

"مکان پہ چڑھتے گوشہ گوشہ ہوت”

یعنی گوشہ کونے کو کہتے ہیں اور حیدرآباد  میں گوشہ پردہ کرنے کو بھی کہا جاتا ہے۔ اس اعلان کی ضرورت اس لیے پیش آتی تھی تاکہ خواتین صحن یا آنگن میں ہوں تو اندر چلی جائیں۔ شبِ برات اور شبِ معراج کے مواقع پورا محلہ چراغاں سے جیسے ایک مقدس نور میں نہا جاتا۔

      حیدرآباد دکن کا ایک خاص کردار”سوئیاں پوت ” والی کا تھا۔ یہ عورتیں لمبی تڑنگی اور مضبوط کاٹھ کی ہوتی تھیں۔ ان کے سر پر ایک بہت بڑی ٹوکری ہوتی۔ مجھے یاد ہے کہ اماں ان کو ضرور بلاتی تھیں۔ جب ان میں سے کوئی عورت آتی  تو محلے کی دوسری خواتین بھی آجاتیں اور اس کے اطراف گھیرا ڈال کر کھڑی ہو جاتیں۔ ٹوکرے کو دوسری عورتوں کی مدد سے سر سے اتارا جاتا۔ پھر تو یوں سمجھیں مانو جادو کی پٹاری کھلی ہے؛ کیا کیا نہ چیزیں نکلی چلی آرہی ہیں یا پھر یوں سمجھو کہ عمر وعیار کی زنبیل ہے جو ما نگو جو چاہو اندر سے نکلی چلی آرہی ہیں۔ کوئی دو تین گھنٹوں میں ساری خریداری ہو جاتی۔

       حیدرآبادی عورتوں کا بھی خاص پہناوا تھا۔ آڑا دوپٹہ، چوڑی دار پاجامہ اور لمبی کرتی۔ آڑادوپٹہ ابرق سے جھلمل کرتا۔ ڈنڈارس کے رنگوں سے رنگا ہوا، اس پر کا م دار جوتی عجب بہار دکھاتی تھی۔ آج کل کراچی میں حیدرآباد ی جوڑا فیشن میں ہے۔ ہم  نے اپنی آنکھوں سے یہ پہناوا دیکھا ہے اگرچہ میرے سامنے ہی اماں اور نا نی نے آڑے دوپٹوں کی جگہ ساری با ندھنی شروع کر دی تھی۔ مگر نانی ساری پر کُرتی پہنتی تھیں۔

         یہ تو مسلمان عورتوں کا پہناوا تھا۔ ہندو عورتیں ساری پر بلاؤز پہنتیں۔ کنواری لڑکیاں لہنگا اور لمبا بلاؤز پہنتیں اور اوپرآڑا دوپٹہ با ندھا جاتا اور ماتھے پر بندیا۔ ہندو عورتیں  پیر میں جوتی نہیں پہنتی تھیں۔ بہت د نوں تک مجھے خواب آیا کرتا تھا کہ  میں اسکول بغیر جوتے کے چلی گئی ہوں۔

   ہمارے محلے میں اگرچہ زیادہ تر مسلمان تھے مگر تین گھر ایسے بھی تھے جن میں ہندو تھے۔ ان کے گھروں کے دروازے پر پیپل کے پتوں اور گیندے کے پھولوں کا ہار لٹکتا تھا جو بڑے خوشنما لگتے۔ ہر روز گھر کے آگے خوبصورت رنگوں سے ر نگولی سجی رہتی تھی۔ میں نے کبھی ان رنگوں کو بکھرا نہیں دیکھا۔یہ ہندو گھرانے  نہایت منکسرالمزاج تھے۔ کبھی ان کو اونچی آواز میں بات کرتے میں نے نہیں سنا۔

   بزرگوں اور بڑوں کے ادب و احترام کا اپنا ہی انداز تھا۔ ہندو عورتیں اور مرد ہاتھ جوڑ کر پر نام کرتے تو مسلمان ماتھے تک ہاتھ لے جا کر اور ذرا جھک کر آداب کرتے۔ جو اگر بہو ہوئی تو وہ جھک کر ساس کے پیٹ میں منڈی ڈالتیں۔ یہ جملہ ہی آج کی نسل کے سر سے گزر جائے گا،  یعنی اپنے سر کو اتنا  جھکاتیں کہ سر ساس کے پیٹ سے لگ جائے۔

    شادی عام طور پر دن میں ہوتی۔ صبح کے ناشتے سے لے کر رات تک فرشی دستر خوان بچھے رہتے۔ ہندو کیلوں کے بڑے بڑے پتوں میں کھانا پروستے۔کھانا پروسنے کے لیے برہمنوں کی خدمات حاصل کی جاتیں۔گھروں میں بھی فرشی دستر خوان کا رواج تھا۔سب بڑے اور بچے ایک ساتھ دستر خوان پر بیٹھتے آج کل کی طرح نہیں کہ جس کا جب من چاہے کھالیا۔اس طرح  ساتھ کھانے سےمحبتیں بھی بڑھتیں۔

حیدرآباد  میں جہیز کی لعنت بہت زیادہ تھی۔ لڑکے والےتوخیر آج کل بھی بہت اکڑفوں دکھاتے ہیں مگر اس زمانے میں تو وہ خود کو مافوق  الفطرت  ہستی سمجھتے تھے۔ مایوں، مہندی، چوتھی اور دسہری کے علاوہ جمعاگی کی رسم بھی ادا کی جاتی تھی۔ جمعاگی کی رسم پانچ جمعوں تک دلہن کے گھر ہوتی جس میں دولہااوردولہن کو پھولوں کے گہنے پہنائے جاتے اور حسب توفیق نیا جوڑا دیا جاتا۔

حیدرآباد ی کھانے بھی باقی ہندوستان سے مختلف تھے۔ ان کا اپنا مخصوص رنگ اور ذائقہ ہوتا تھا۔ مرچ اور کھٹاس کا استعمال بہت زیادہ تھا۔ پکوان کے لیے مونگ پھلی کے تیل کا استعمال عام تھا۔ کھٹی دال، بگھارے بیگن، مرچوں کا سالن، کدو کا دالچہ، دہی کے کوفتے اور امباڑے کا کھٹا ساگ۔ ایسے ہی مزے دار اور چٹ پٹے سالن تھے جو روز مرہ پکائے جاتے۔ دہی کی کڑھی، چاول کی کڑھی، چٹخارے دار چاکنہ اور  نہاری۔ قیمے  کی ٹکیہ میں دہی، پیاز اور ہری مرچ بھر کر اسے شکم پور کا نام دیا گیا۔ چاولوں میں  چنے کی دال اور پیاز کا مصالحہ ڈال کر اسے قبولی کا نام دیا گیا۔ سموسے سے ملتی جلتی چیز لقمی کہلائی اور ان سب پر بھاری تھی حیدرآبادی کچے گوشت کی بریانی۔ میں نے اس سے زیادہ مزے دار بریا نی آج تک نہیں کھائی۔ میٹھے میں شاہی ٹکڑے اور خوبانی کا میٹھا۔ خوبانی کے میٹھے پر رنگ برنگی کسٹرڈ اور سجے ہوئے خوبانی کے بادام عجب بہار دکھاتے تھے۔

حیدرآباد کی مشہور سڑک عابڈس تھی۔ بنجارہ ہلز پوش علاقہ تھا۔ یہاں کے ادبی ماحول میں بے شمار اخبار اور رسالے نکلتے تھے۔ حیدرآباد  کے مشہور اخبار سیاست، پیام اور رہنمائے دکن تھے۔ یہ تینوں اخبار بڑی پابندی سے ہمارے گھر آتے تھے۔ ہر محلے میں ایک پیسہ لائبریری ضرور ہوتی تھی۔ پڑھنے پڑھانے کا چلن عام تھا۔ میری نا نی اس لائبریری سے باقاعدہ کتابیں منگواتی تھیں۔

حیدرآباد میں کئی قد آور شخصیات تھیں مگر حیدرآباد کا ذکر ہواور اردو شاعری کے شب گزیدہ شاعر مخدوم محی الدین  کا نام رہ جائے۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔ "مابھومی” (میری زمین) تحریک کے روح  و رواں ۔ انھوں نے اس تحریک کو "میری کائنات، میری حیات”  کہا ہے۔ وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک انقلابی، آدرشی شاعر تھے۔ ان کی شاعری کی جڑیں حیدرآباد  میں آج تک یوں گڑی ہیں کہ اس سے ہر روز نت نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ ان کی رومانوی نظم ” ایک چنبیلی کے منڈوے تلے” آج بھی روزِاول کی طرح مقبول  ہے۔

(جاری ہے)


٭یہ دراصل بی بی کا علم تھا جو حیدرآباد میں غالباً کثرتِ استعمال سے بی کا علم رہ گیا تھا۔

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

2 thoughts on “میرا حیدرآباد (حصہ اول)”

  1. ایک زمانہ تھا کہ لکھنؤ اور حیدرآباد دکن ہماری تہذیب کے مراکز تھے پھر اس میں پنجاب بھی حصہ دار ہوگیا تاہم تقسیم کے بعد بہت کچھ ویسا نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے ماضی کے روزن کھول کر ہمیں موسمِ بہار جیسے اس دل فریب و مہکتے جہان کی سیر کروائی۔ یقینا اس خوبی و خوب صورتی میں آپ کے خوش گوار اندازِ تحریر کا نمایاں حصہ ہے جو ہمیں ماضی میں گھومتے پھرتے بھی کسی ناسٹلجیا کا شکار نہیں کرتا بلکہ ہمارے دلوں کو خوشی سے بھر دیتا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر کی منتظر ہوں!

  2. بہت ہیی خوبصورت اور انتہاٗٗی دلچسپ بیان سے بھرپور داستان لکھی تم نے۔ اب ہمہیں مزید کہانی کا انتظار رہے گا۔ حیدراباد کا اس قدر تفصیل نقشہ تو وہاں کی تواریخ کے حصہ میں شامل کیا جاسکتا ہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے