لائف اسٹائل نقطۂ نظر

کس کا انتظار ہے؟

ایک عرصے سے یہ احساس رہا کہ زندگی اس طرح نہیں گزاری جس طرح کی گزارنے کی خواہش تھی۔ لگتا تھا ابھی تک جینا شروع ہی نہیں کیا۔ تمام وقت نت نئے چیلنجیز کا سامنا تھا۔ شادی سے پہلے پڑھائی، ڈگری، کریئر، پھر شادی، بچے، پھر پردیس۔ اور یہاں آکر دوبارہ صفر سے زندگی کا آغاز۔ نئی زبان، جاب، بچوں کی تعلیم، گھر، قرضہ، گاڑی اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ۔ یہی سوچتی رہی کہ ذرا یہ مسئلے حل ہو جائیں تو جینا شروع کریں گے۔
ہم بڑی خوبی سے خود کو باور کرا دیتے ہیں کہ زندگی آگے جا کر بہت حسین ہو جائے گی۔ بس ذرا تعلیم سے فارغ ہو جائیں، یا بس شادی ہو جائے۔ اچھا بچے ہو جائیں اور جب بچے ہو جائیں تو یہ ذرا بڑے ہوں اسکول جانے لگیں پھر فرصت ہو گی اور زندگی کا لطف اٹھائیں گے۔ بچے بڑے ہوئے تو ان کے مسائل بھی بڑے ہوگئے۔ ٹین ایج اور بھی بڑے چیلنج ساتھ لائی۔ سن بلوغت میں داخل ہوئے۔ ہارمونز کا اتار چڑھاؤ ۔ موڈ ، سوینگز اور بات بے بات الجھنا۔ کسی کا پہلا کرش ، کسی کا پہلی بار دل ٹوٹنا۔۔۔ اچھا چلو یہ دور بھی گذر ہی جائے گا بڑے ہو جائیں گے۔
بچوں کی تعلیم کے ختم ہونے کا انتظار ختم ہوا۔ اب یہ اپنے پیروں پہ کھڑے ہو جائیں۔ شادی ہو جائے ان کے گھر بس جائیں پھر اپنا بھی سوچیں گے۔پھر کچھ اپنے لیے کریں گے۔ بس ذرا گھر کی ساری قسطیں ادا ہو جائیں ۔ گاڑی نئی لے لیں پھربے فکری سے اپنے لیے کوئی پلان بنائیں گے۔
کسی اچھی جگہ چھٹیاں گذارنے جائیں گے۔لیکن ایسا ہوتا نہیں ۔ زندگی کے ساتھ یہ سارے بکھیڑے لگے ہی رہتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم خوش ہونے کے لیے کسی خاص وقت کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اور اس وقت کا لطف اٹھانا بھول جاتے ہیں جس میں ہم ہیں۔ وہ خاص وقت کبھی نہیں آتا۔ وہ لمحے قیمتی ہیں جن میں ہم ہیں، جو گذرتے جا رہے ہیں۔
زندگی مسلسل جد و جہد ہے۔ ہر آنے والا دن ساتھ نئے چیلنج لیے چلا آتا ہے۔ اور ہم ہیں کہ اس انتظار میں ہیں کہ ایک دن آئے گا جب سب مسئلے حل ہو چکے ہوں گے۔ ہم بے فکری سے بیٹھے ہوں گے۔ آخر وہ وقت کب آئے گا؟ ہمیں کس وقت کا انتظار ہے؟ اور کیوں؟
ناروے آ کر ایک عرصہ تک میں سمجھتی رہی کہ میں کسی سفر ہوں اور دکھ اس بات کا تھا کہ مجھے یہ بھی علم نہ تھا کہ مجھے جانا کہاں ہے۔ پھر بھی یہ احساس کہ جب میں "وہاں” پہنچ جاؤں گی تو میں آرام سے زندگی کو گذارنا شروع کروں گی۔مجھے اور کتنا چلنا ہے جب میں "اس جگہ” پہنچ جاؤں؟ اور میری اصلی زندگی شروع ہو۔
اور مجھے کیسے پتا کہ وہ جگہ آ گئی ہے؟ جہاں پہنچ کر مجھے خوشی کا احساس ہوگا۔
خاصی دیر میں یہ بات پتا چلی کہ خوشی کا کوئی راستہ نہیں۔ راستہ ہی خوشی ہے۔ ہر لمحہ آپ کا ہے۔ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اسے اپنایئے، منایئے اور لطف اٹھایئے۔ زندگی سفر بھی ہے اور منزل بھی۔ اس کے ہر پڑاؤ ، ہر موڑ ہر اونچ نیچ سے گزرنا ہے اور ہر لمحے کو جینا ہے۔
وقت ٹھہرتا نہیں ، وہ کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ اس لیے اچھا تو یہ ہے کہ ہم زندگی کے گزرتے ہوئے لمحات سے لطف اندوز ہوں۔ کسی آنے والے وقت کے انتظار میں خوشی کو ملتوی نہ کریں۔ ذرا یہ ہو جائے ذرا وہ ہو جائے۔ پڑھائی ختم ہو جائے۔ یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے۔ وزن پانچ کلو کم ہو جائے یا بڑھ جائے۔ جاب مل جائے یا ریٹایئرمنٹ ہو جائے۔ یہ سب ہوتا رہے گا۔ زندگی کو اپنا لیں اس وقت اس لمحے میں جی لیں۔

نادرہ مہرنواز
وہ جسے دیکھ کر جاننے کی خواہش ہوتی ہے، جان کر رشک آتا ہے، اور یہ رشک شدید محبت میں بدل جاتا ہے۔ نادرہ مہرنواز بھی ایسی ہی مہربان ہستی ہیں۔ قارئین کے لیے ان کا خلوص ان کے ہر لفظ سے عیاں ہوتا ہے۔ نوشتہ کے لیے ان کی محبت یقیناً ہماری خوش بختی ہے۔

4 thoughts on “کس کا انتظار ہے؟”

  1. نادرہ صاحبہ بہت خوب صورت انداز میں بہت سادہ زبان میں بہت گہری بات کرگئیں۔ زیادہ تر لوگ مجھ سمیت کسی ان دیکھی منزل کے انتظار میں رہتے ہیں اور اپنا نہایت قیمتی وقت ضایع کردیتے ہیں۔ اسی دوران خوشی کے معانی بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ہم سے شاید بہت سے لوگوں کو خوش ہونا آتا بھی نہیں۔

  2. دراصل یہ سوچنے کا انداز ہی ہے جو آپ کو خوشی دیتا ہے یا غم میں مبتلا کر دیتا ہے ۔ اپنی ترجیحات کو خوشی میں تبدیل کریں یہ ہی کامیاب زندگی ہے ۔ ورنہ تذتذب کی زندگی گزرتی ہے ۔ نادرہ بہن نے انتہائی آسان الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ اپنی خوشی کے لیے بھی اپنی ترجیحات بنائیے اور اپنے لیے بھی حسین لمحات کو سمیٹیے ورنہ حسرتیں دل میں ہی دبی رہ جائیں گی۔ خوبصورت تحریر ہے لکھتی رہیں! خادم ملک

اپنی رائے کا اظہار کیجیے