سیر و سیاحت مقامات

گرینچ۔۔۔ جہاں سے وقت کا آغاز ہوتا ہے

منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر — دوسرا حصہ گرینچ

دیکھ لے اس چمن دہر کو دل بھر کے نظیر

پھر ترا کاہے کو اس باغ میں آنا ہوگا

پچھلے سال لندن میں شاہدہ باجی کے گھر ان کی مہمان نوازی کے مزے لوٹ رہی تھی۔ وہ ہر وہ چیز میرے لیے کر رہی تھیں جس کے لیے میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ ایک دن انھوں نے کہا آج تمھیں ایسی جگہ لے جاؤں گی جس کو دیکھ کر تمھاری آنکھیں اور تمھاری سوچ کھل جائے گی۔

 آخر ہم جا کہاں رہے ہیں؟

گرینچ۔۔۔ میں تو جیسے اچھل پڑی۔ یعنی آج میری ایک اور دیرینہ خواہش پوری ہونے جا رہی ہے۔

 میں اس لفظ سے آشنا تھی۔ یہ جنوبی لندن کا ایک ضلع ہےجو اپنے میری ٹائم میوزیم اور ٹائم زون کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ تقریباً پوری دنیا میں معیاری وقت کا پیمانہ۔ 0 درجہ طول البلد۔۔۔ بچپن میں جغرافیہ جو رٹا کرتے تھے ۔۔۔ پھر گرینچ یونیورسٹی۔ دنیا میں موسم سرما اور گرما میں گھڑیوں کا آگے پیچھے ہونا بھی سب گرینچ کی کارروائی ہے۔ اس جگہ کو ٹائم زون بھی کہا جاتا ہے۔

ہم پانچ لوگ تھے۔ سلیم، انیس، راشدہ، آمنہ اور ہماری باجی شاہدہ۔ سوائے میرے سب اس جگہ جاچکے تھے۔مگر دوبارہ دیکھنے کی خواہش تھی۔

ہم نے ویسٹ منسٹر ایبے (Abbey) سے انڈر گراؤنڈ ٹیوب پکڑی اور اس جگہ اترے جہاں ہم کوگرینچ کے لیے بوٹ میں سوار ہونا تھا۔ شاہدہ باجی کی مہمان نوازی سے کس کافر کو انکار ہو سکتا ہے۔ انھوں نے ہم سب کے ٹکٹ خریدے اور ہم کروز میں بیٹھ گئے۔

 کروز میں ہم ٹاپ فلور کی سیٹوں پر براجمان ہوگئے۔ زیادہ تر سیاح یورپین تھے۔ چمکتے دمکتے سرخ و سفید چہرے، انگ انگ سے خوشی چھلکتی ہوئی۔ ایک بات ضرور ہے کہ یورپین بہت با اخلاق اور خوش مزاج ہوتے ہیں۔ کروز نے پانی کی سبک خرام لہروں پر چلنا شروع کیا۔ اور ساتھ ہی مائک سے گائیڈ نے بولنا شروع کردیا۔

ٹیمز کی روانی قابل دید تھی۔ ٹھنڈی اور پرسکون ہوا جیسے جسم و جاں کو ایک سرور میں بہائے لیے جارہی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد لندن آئی کا وھیل آگیا۔ کئی بار اس کو دیکھ چکی ہوں۔ رات میں چمکتی ہوئی روشنیوں میں اس کی خوبصورتی کچھ اور ہوتی ہے۔ شام کے سرمئی دھندلکے میں یہ کچھ سویا سویا لگتا ہے اور دوپہر میں کچھ اور۔ راستے میں جو بھی عمارت آتی گائیڈ اس کے متعلق معلومات فراہم کرتا۔ لوگ اتنی محویت اور دل چسپی سے سن رہے تھے گویا لیکچر ختم ہوتے ہی ان سے سوالات پوچھے جائیں گے۔ یہ سفر کوئی پینتالیس منٹ پر محیط تھا۔ راشدہ نے مجھ سے کہا۔

سیدہ!تم نے غور کیا یہاں سے آسمان کتنا قریب لگتا ہے۔ میں نے نظریں اوپر اٹھائیں۔ واقعی!یہ تو میری پہنچ میں ہے۔ اپنے شہر میں جب میں کھلی چھت پر کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر آسمان کو تکتی تو مجھے آسمان بہت دور لگتا ۔ مگر یہاں تو یوں لگتا ہے کہ اگر میں نے چھلانگ لگائی تو سیدھے اوپر اس کے حضور پہنچ جاؤں گی۔

 ٹیمز بہتا رہا۔ ٹیمز بہتا رہا ہے، ملنے بچھڑنے کے ہزاروں منظر سموئے، جذبوں اور عمل کی کئی کہانیاں دیکھتے لیکن بزبانِ خاموشی کئی داستانیں سناتے۔۔۔ ٹیمز بہتا رہا۔۔۔

 اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا

 ہر ایک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

 ٹیمز بہتا رہا۔ اور ہم اطراف میں مگن رہے۔ کوئی پون گھنٹے بعد ہم اپنی منزل پر پہنچ چکے تھے۔ اب ہمیں گرینچ سٹی کی سڑکوں سے گزرنا تھا۔

کسی شہر کو جاننے اور اس کے باسیوں کے مزاج کو سمجھنےکے لیے اس کی سڑکوں پر سے گزرنا ضرور چاہیے۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ اس طرح میں اس شہر کے باسیوں سے قریب ہو جاتی یوں ایک قربت کا احساس ہوتا ہے جب آپ سڑکوں پر اپنے قدم دھرتے ہیں۔ میں نے بھی گرینچ سے ایک رشتہ جوڑ لیا۔ سڑک پر قائم دکانیں، اس پر چلتے ہوئے لوگ مجھے اپنے لگے۔درختوں کی چھاؤں میں چلنے سے سکون اور طمانیت کا احساس ہوا۔ اور کچھ ہی دیر میں ہم گرینچ کی رسد گاہ میں موجود تھے۔ عالمی خطِ تاریخ کا آغاز گرینچ سے ہوتا ہے اسی لیے ہم کہتے ہیں گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق۔

 گرینج کا موسم س وقت ہلکا گرم اور قدرے مرطوب تھا۔ ویسے گرمیوں میں یہی صورت حال رہتی ہے جبکہ سردیوں میں ٹھنڈک رہتی ہے۔ بارش کافی ہو جاتی ہے شاید اسی لیے ہمیں گرینچ کی رسد گاہ کے ساتھ جنگل بھی ملے۔

 گرینچ کی رصد گاہ کے باہر دو رویہ درخت قطار در قطارادب سے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ وسیع سبزہ زار جیسے زمردی فرش بچھا ہو۔ ایسی صفائی کہ ایک تنکا پڑا نہ دکھا ئی دے۔ ہم رصد گاہ کے میوزیم میں داخل ہوئے تو کچھ ایسی خاموشی طاری تھی جیسے کوئی عبادت گاہ ہو۔ لوگ بات بھی سرگوشیوں میں کر رہے تھے۔ رصد گاہ کا میوزیم قابل دید تھا۔ میوزیم میں دلچسپی کی تمام چیزیں تھیں۔ ایک گوشہ میں کچھ کاسٹیوم تھے جو navigation سے متعلق تھے۔ ہم نے بھی وہ کاسٹیوم زیب تن کیے اور خود کو اس جگہ کا حصہ محسوس کیا۔

اب ہمارا رخ گرینچ کی اس سمت تھا جہاں تیر کا نشان تھا، تین بجے داخلہ بند ہو جاتا ہے۔ کافی چڑھائی تھی۔نوجوان تو لمبے لمبے ڈگ بھرتے بلندی طے کر رہے تھے۔ مگر ہم جیسے "جوان” دھیرے دھیرے بلندی پر چڑھ رہے تھے۔ حیرت تو اس وقت ہوتی تھی جب انگریز بوڑھیاں بھی تیز قدم اٹھاتی نکلتی چلی جاتی تھیں۔ ریلنگ کے ساتھ چلتے ہوئے ہمیں گھنا جنگل نظر آیا اور درختوں پر چڑھتی ہوئی خرگوش کی طرح موٹی موٹی گلہریاں جو اپنی دموں کو بڑے ناز و انداز سے لہراتی کوئی جنگلی پھل منھ میں دبائے بھاگی جا رہی تھیں۔ ایلس ان ونڈر لینڈ کی طرح ہم ان کے تعاقب میں نکل پڑے اور وہ راستہ ہم سے جدا ہو گیا جہاں ہمیں پہنچنا تھا۔ اب ہم ایک نہایت خوبصورت باغ میں تھے۔ زینہ بہ زینہ پھول کھلے ہوئے، ایسے درخت جن کے پتے اگر خزاں کے پتوں کی طرح شنگرفی تھے تو ان پتوں میں نیلا اور میرون رنگ بھی جھلکتا تھا۔ ہم جو چلتے چلتے تھک گئے تھے، ان زینوں پر کمر ٹکا کر پاؤں پھیلا کر گھڑی دو گھڑی کو بیٹھ گئے۔ پھر جلد ہی خیال آیا کہ کہیں وقت ہاتھ سے نہ نکل جائے لہٰذا لوگوں سے پوچھتے پوچھتے منزل تک پہنچ ہی گئے۔

سیاحوں کا ایک ہجوم تھا۔ لیکن کیا نظم و ضبط تھا۔ یہ وہ جگہ ہے جو ٹائم زون کہلاتی ہے۔ میں اس جگہ تھی جہاں سے وقت کا آغاز ہوتا ہے۔ میں، گویا کہ آئینہ بن گئی اور میری ذات مجھ سے فراموش ہو گئی۔۔۔ دل کو سنبھالتے اس تیر کی طرف اپنا کیمرہ کیا جو شمال کا اشارہ دیتا ہے۔ دل تو یہی چاہتا تھا کہ وقت تھم جائے اور میں یہیں کھڑی ان لوگوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی رہوں۔

 اب ہمارا رخ میری ٹائم میوزیم کی طرف تھا۔ میری ٹائم میوزیم بہت بڑے رقبے پر ہے اور دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اکثر مشرقی سیاح اسے چھوڑ دیتے ہیں مگر یہ دیکھنے کی چیز ہے۔ واپسی میں ایک مرتبہ پھر گرینچ کی سڑکوں کے ساتھ شناسائی ہوئی۔ گرینچ اپنی کتابوں اور نوادرات کی مارکیٹ کے لیے خصوصی شہرت رکھتاہے۔ ایک شاپ پر رک کر کچھ کھایا پیا اور گھر واپس ہولیے۔

 جو لندن جائے اور گرینچ کی سمت نہ جائے پھر تو اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ کہتے ہیں "ایک بار دیکھا ہے اور دوسری بار دیکھنے کی تمنا ہے”، گرینچ دیکھنے کے بعد میرا یہی حال تھا؛ میں نے واپسی میں کچھ سکے گرینچ کی طرف اس نیت سے اچھالے کہ میں دوبارہ اس طرف آؤں۔

اس سلسلے کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے https://www.navishta.com/bibury-honey-stone-village/

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے