نقطۂ نظر

دہشت گردی اور انتہاپسندی، ہماری ترقی میں رکاوٹ

زوردار دھماکہ یا گولیوں کی تڑتڑاہٹ، لرزہ خیز چیخیں، بارود  یا جلتے ہوئے انسانی جسموں کی بو، اور پھر موت کا سکوت۔۔۔  یہ مناظر جو ہر دل، ہر جان  کے لیے انتہائی ناقابلِ برداشت ہوا کرتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ارضِ مقدس، پاکستان کو کتنے ہی ایسے سانحات سے گزرنا پڑا جب ہمارے بچے، بوڑھے، خواتین ، نوجوان ا، پنے گھروں کے واحد کفیل  جاں سے گزر گئے اور اپنے پیچھے بھوک، افلاس اور درد بھرے لمحات چھوڑ گئے۔

دہشت گردی کیا ہے، اور یہ کس طرح انسانی زندگی کو متاثر کرتی ہے یہ ہم پاکستانیوں سے بہتر کون جان سکتا ہے جہاں اکثریت یا تو اس  کا براہِ راست  نشانہ بنی ہے یا ان کے اہل خانہ و احباب میں سے کوئی نہ کوئی اس کی نذر ہوا ہے۔  یہ نہ صرف   ہماری قومی ترقی کے سفر ميں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے  بلکہ  دہشت گردوں کی  آئے روز  کی شرپسندانہ کارروائیوں نے ہميں دنیا کے  خطرناک ممالک کی صفوں میں لا کھڑا کر دیا ہے۔  اس سے ہميں اندرونی طور پر  بھی بہت نقصان پہنچا  اور  بيرونی دنيا ميں بھی  ہمارا  اميج اور ساکھ  بری طرح متاثر ہوئی  ہے۔  دہشت  گردی اور انتہاپسندی نے بيرونی سرمايہ کاری کی راہ ميں رکاوٹيں کھڑی کر رکھی ہيں تو ملک کے اندر   معاشی ترقی کے پہيے کو رواں رکھنے میں بھی یہ رکاوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  دہشت  گردی اور انتہا پسندی کا مستقل بنیادوں پر  خاتمہ اشد ضروری ہے۔

دہشت گردی کے سدباب کی کاوشوں میں ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لازوال قربانياں قابل ستائش ہیں ۔ تاہم،   ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ان محسنوں کی قربانیوں اور لہو کو رائگاں نہ جانے ديا جائے۔  بیرونی مداخلت کی روک تھام کےلیے  سرحدوں کی نگرانی مزيد سخت کرکے بيرونی عناصر کی مکمل روک تھام بےحد ضروری ہے۔ خفيہ اداروں کو مزيد فعال کرنے اور ان کی  استعداد ميں اضافے کے ليے ہر ممکن وسائل فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔  دہشت  گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جاری آپريشن اس کے ملک بھر سے مکمل خاتمے تک جاری رہنا چاہيے۔ قوم اور سياسی قيادت کو اپنے تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور مدد کرنی چاہيے۔

عوام بےچارے  دہشت گردوں کے براہ راست نشانے پر ہیں  ۔ گھر سےباہر قدم نکالتے  ہی عوام کے اندر  اندیشے پنپنے لگتے ہیں۔ عام آدمی کے لیے جان و مال کا تحفظ حرزِ جاں بنا ہوتا ہے  جبکہ خواص اور اشرافیہ کا طبقہ سرکاری اور نجی سیکیورٹی کے حصار میں مزے لوٹتا پھرتا ہے۔  ہمارے ہاں غریب اور شریف عام آدمی  نہتا جبکہ صاحب حیثیت اور بدمعاش مسلح ہے۔ ملک کی ترقی اور امیج کو بہتری کی طرف لے جانے کے لیے  تمام  شہریوں  کو مساوی تحفظ فراہم کرنے اور پورے ملک کو محفوظ اور امن کا گہوارہ بنانے کی ضرورت ہے۔  اسلحہ صرف مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہی ہونا چاہيے اور ان کے علاوہ کسی کو بھی اسلحہ رکھنے کی اجازت نہيں ہونا  چاہيے۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری حکومت ہی  کوپوری کرنی چاہيے۔

فوجی عدالتوں کی طرز پر فوری فيصلے کر کے ان سفاکوں کو نشانِ عبرت بنانا چاہيے جو گھر اور خاندان اجاڑتے پھرتے ہیں۔  محلے اور گاؤں کی سطح پر ایمان دار اور بےداغ افراد کی کميٹياں بنا کر ان کو اپنے علاقے کی سيکيورٹی کی ذمہ دارياں تفويض کی جائیں۔  يہ کميٹياں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر عوام کے تحفظ کو يقينی بنائيں۔

انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے  سعودی عرب کی طرز پر مدارس اور مساجد کی مانیٹرنگ کا نظام بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں وہ والدین جو صاحبِ حیثیت و جائیداد ہیں اپنے بچوں کو جدید انگریزی میڈیم اسکولوں  اور دنیاوی تعلیم کی طرف لے جاتے ہيں جبکہ دینی خدمت اور دینی  تعلیم و تدریس کا بیڑا فقط غریب نے اٹھا رکھا ہے۔  دینی اور دنیاوی تعلیم میں یہ فاصلے محرومی کو جنم دیتے ہیں۔ ان  فاصلوں کو سمیٹنے کی ضرورت ہے۔ دینی تعلیم کو  جدت اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے  آمیز کرنا  بے حد ضروری ہے۔  روایتی ملا کے بجائے  دینی علوم کے ماہرین کو آگے لایا جائے  ۔  سائنس،انجینئرنگ اور دیگر علوم سے روشناس عالم ہی ہمیں انتہا پسندی سے نجات دلا سکتا ہے۔  

ياد رکھيے، ہم سب کو یک جان اور یک زبان ہو کر اپنے پيارے وطن کو سب کے لیے محفوظ بنانا ہے ۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

3 thoughts on “دہشت گردی اور انتہاپسندی، ہماری ترقی میں رکاوٹ”

    1. بھائی صاحب لکھاری تو مسائل کی نشان دہی کرسکتا ہے، شعور اجاگر کر سکتا ہے لیکن عمل تو افرادِ معاشرہ کو اجتماعی طور پر ہی کرنا ہے نا یا اربابِ اختیار کو۔ ہاں یہ اجتماعی کوشش کا متقاضی مسئلہ ہے اور لکھاری بہرطور اپنی سی کوشش کر رہے ہیں۔

      1. You are right Ms Ashraf. I am cent percent agree but the problem with our writers is they are too critical and just to point out governments
        by keeping their own Likenesses in their
        mind instead overall community issues.

اپنی رائے کا اظہار کیجیے