انتخابات 2018 سماج سیاست نقطۂ نظر

بریانی کی پلیٹ پر ووٹ!!!

ملک میں انتخابات ہوا ہی چاہتے ہیں، جس میں قومی اور صوبائی حلقوں کے لیے رائے شماری ہونا ہے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی عوام یقیناً جوق در جوق اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلیں گے۔ اس موقع پر پولنگ اسٹیشنوں کے قریب مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے پنڈال سجائے ہوتے ہیں، جہاں عوام کو ہاتھ کے ہاتھ پولنگ کارڈز(ووٹر فہرستوں میں ووٹر کا اندراج نمبر ڈھونڈنے میں سہولت کے لیے) اور ایک پلیٹ بریانی یا قیمے والے نان میسر آجاتے ہیں۔ اس طرح ووٹر امیدوار یا پارٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر یا ان کے سماجی تاثر کے بجائے ووٹ دینے کے لیے بریانی کا حقِ نمک ادا کرتے نظر آتے ہیں۔

اس طرح کی بریانی سے متاثرہ ملک میں تقریباً تمام انتخابات کے دوران ووٹر اپنا حق رائے دہی احسن طریقے سے ادا کرنے کی بہ نسبت اس روز ملنے والی سہولتوں کے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ جیسے ٹرانسپورٹ، کھانا اور کچھ اضلاع میں تو ووٹ کے حصول کے لیے نقدی بھی کارگر ثابت ہوتی ہے۔ بالخصوص پسماندہ طبقوں اور علاقوں کے ووٹرز یہی سمجھتے ہیں کہ منتخب ہونے کے بعد تو کسی نے حال پوچھنا نہیں ہے لہٰذا آج ایک روزہ عزت ہی سے لطف اندوز ہولیں اور جو "زیادہ عزت” مٹھی میں دبائے ووٹ اسی کا ہوجائے۔

وطن عزیز تقریباً 90 کھرب روپے کے قرضوں تلے دبا ہوا ہے۔ ملک میں بجلی بقدرِ ضرورت ہے نہ گیس وافر۔ اور تو اور دریاؤں کی اس سرزمین میں اب تو پانی کا بھی کوئی پرسان حال ہی نہیں۔ نہ تعلیم ہے، نہ صحت اور نہ عوامی بہبود کا ہی کوئی ہمہ گیر نظام۔ یہ سب مصائب اسی بریانی کے طفیل ہیں جو انتخابی معرکے کے روز ہم اپنے معدے کی نذر کرتے ہیں۔

ذرا سوچیے! الیکشن کے روز یہ سیاسی جماعتیں کسی تہوار کی سی فضا قائم کرکے عوام کو کس قدر بے وقوف بناتے ہیں۔ عوام ان کی سابقہ کارکردگی کو مدنظر رکھنے کے بجائے اس ایک روزہ جشن کے سرور میں بہہ جاتے ہیں۔ جب بلند آوازمیں موسیقی کی تال پر بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں، حاضرین پر پھول نچھاور ہوتے ہیں اور امیدواران آ آ کر فرداً فرداً گلے ملتے ہیں تو بجلی گیس کے دفتر اور اسپتالوں کے باہر، نادرا سمیت ہر سرکاری دفتر کے اندر کھائے جانے والے دھکوں، نیز اندر و باہر ہر جگہ پڑنے والی پولیس کی جھڑکیوں کی تکلیفیں مدھم ہوجاتی ہیں۔ کیا کریں فراموشی بڑی نعمت ہے۔

ملاحظہ کیجیے ! پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی حد تک کم ہوچکے ہیں، جس کے باعث ڈالر جو سابقہ حکومت کے اختتام پر 90 کے ہندسے میں تھا وہ اب اس حکومت کے جاتے جاتےتقریباً 130روپے کا ہوگیا ہے۔ اس تنزلی کی وجہ ہماری درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہے۔ درآمدات میں اضافہ ملک میں صنعتیں نہ لگنے اور اس ضمن میں موافق پالیسیاں نہ بنانے کے سبب ہوا، جبکہ برآمدات میں کمی کی وجہ ملک میں صنعتوں کی بندش اور ان کا انخلا (بالخصوص سابقہ مشرقی پاکستان – بنگلہ دیش میں) نیز اس زمرے میں عدم توجہی تھی۔ دوسری جانب حکمرانوں کے کارخانے، اور شوگر ملیں دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی رہیں۔ پی آئی اے مردِ بیمار ملکی خزانے پر 140 ارب روپے سالانہ کی ضرب لگانے والا ادارہ بن چکا ہے۔ اسٹیل مل آئی سی یو میں اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے تو ریلوے عجب کرپشن کی غضب کہانیوں سے اٹی پڑی ہے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ جنگ زدہ افغانستان کی کرنسی بھی پاکستانی روپے کو ٹھینگا دکھارہی ہے، بنگلہ دیش کے ٹکے نے ہمارےروپے کو ٹکے کا نہیں چھوڑا اور ہم خواب ِغفلت کی نیند سورہے ہیں۔

 میرے مطابق کرپشن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس کے تدارک کے لیے ہمیں درست نمائندوں کو ایوانِ اقتدار میں لانا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ ایماندار،دیانت دار، بدعنوانی سے پاک امیدوار اتنا باوسیلہ نہ ہو کہ آپ کو الیکشن کے دن بریانی کھلاسکے یا ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرسکے۔ مگر یہ کہاں کا انصاف ہےکہ ہم خود کو محض ایک بریانی کی پلیٹ کے عوض پانچ برس کے لیے فروخت کردیں۔ کیا ہم اتنے سستی قوم ہیں۔ کیاہم نے اپنے آنے والی نسلوں کو ان کرپٹ حکمرانوں اور ان کی بیرون ملک مقیم اولادوں کےرحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو ہم نے انگریز کی غلامی سے آزادی کیوں حاصل کی تھی۔ کیوں ہم نےانگریز کی طاقت کے سامنے سینہ تان کر ’بن کے رہے گا پاکستان‘ کے نعرے لگائےتھے۔ لاکھوں لوگوں نے اپنے لہو کی لالی سے پاکستان کی شہ رگ کو خونِ زندگی بخشا۔ ہزاروں گھرانے تاراج کیے گئے، لاکھوں بچے یتیم ہوئے، محض اسی خواب کو پورا کرنے کے لیے کہ ایک روز ہم اپنے وطن میں سانس لیں گے۔ ہمارا اپنا وطن جہاں ہمارے حاکم انگریز سامراج ہوگا اور نہ ہی ہندو ساہوکار۔ ہم اپنے فیصلے خود کریں گے۔اپنے نفع و نقصان کے ذمہ دار خود ہوں گے۔ ایک ایسے وطن میں ہم آزادی سے اپنے مذہب اور ثقافت پر عمل کرسکیں گے۔ ریاست عوام کی فلاح کے لیے کوشاں رہے گی اور ہماری آنے والی نسلیں کسی انگریز یا ہندو کی غلام نہیں ہوں گی۔ ہمیں شیڈول کاسٹ قرار نہیں دیا جائے گا۔ ہمیں تعلیم، صحت اور روزگار کے یکساں مواقع مل سکیں گے۔ اسی لیے ہمارے آبا واجداد نے پاکستان بنانے کے لیے اتنی قربانیاں دیں ۔ مگر آج ہم ان کی قربانیوں، ان کے بہنے والے لہو اور ان کی خود اختیار کردہ افلاس کو محض ایک پلیٹ بریانی کے لیے روند دیتے ہیں۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بظاہرملک میں خواندگی کا تناسب تقریباً 58 فیصد ہے مگر صرف 5 فیصد آبادی جامعات کا رخ کرپاتی ہے ۔ موثر خواندگی (جو لوگ اپنے مضامین پر خامہ فرسائی کی کما حقہ اہلیت رکھتے ہیں )محض 2 فیصد ہے، جبکہ سیاسی شعور وآگہی کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں۔ ایسی صورت ِ حال میں ہم کیا قیاس و امید کرسکتے ہیں ، تاہم اپنے تئیں محض یہ جسارت کرسکتے ہیں کہ عوام کو یہ باور کرائیں کہ اپنے ووٹ کا درست استعمال کریں اور اسے یوں نہ فروخت کردیں۔ہمیں یہ لازماً سوچنا ہوگا کہ اگر اسی طرز پر ہم حکمران چنتے رہے تو خدانخواستہ ہم پر وہ وقت نہ آجائے کہ ہم ایسے دنوں کی ایک پلیٹ بریانی کی ’اوپرچونیٹی‘ سے بھی ہمیشہ کے لیے محروم نہ ہوجائیں۔

فیضان رحیم
ترجمہ نگار، صحافی، محقق، بلاگر فیضان رحیم رجائیت پسندی پر یقین رکھتے ہیں۔ مطالعہ اور سیاست و سماجی مسائل پر خامہ فرسائی ان کا مشغلہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے