سیر و سیاحت

بائی بری – شہد کے پتھروں کا گاؤں

منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر — پہلا حصہ بائی بری

کہتے ہیں ملکِ خدا تنگ نیست پائے گدا لنگ نیست۔ بس مسافرت کا ولولہ اور سیاحت کا مشغلہ درکار ہے، سو حسن کے شیدائی گھر سے نکل پڑتے ہیں۔ ماضی میں سیاحت کے لیے قدم گھر سے نکلتے تھے تو اب انگلی کی ایک کلک پر دنیا جہان کے مناظر ہماری رسائی میں ہیں۔ مانا کہ رنگ رنگ نظاروں کو اپنی آنکھ سے دیکھنا جاں فزا احساس ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگ آنکھوں دیکھے کو یوں قلم بند کرتے ہیں کہ پڑھنے والا بھی خود کو انھی حسین مناظر میں گھرا پاتا ہے۔ ہماری بہت پیاری رابعہ جی کے سفرنامے کے نئے سلسلے کا پہلا حصہ۔۔۔ یہ تحریر بھی اپنے قاری کو نظارے کے حسن اور لفظوں کے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔

شکستگی میں بھی کیا شان ہے عمارت کی
کہ دیکھنے کو اسے سر اٹھانا پڑتا ہے

ہم ویلز سے نکلے تو بارش تھم چکی تھی ہمیں لندن جانا تھا؛ شاہدہ باجی،انیس اور میں خود۔ شاہدہ باجی نے گیس اسٹیشن پر گاڑی روک دی۔ گاڑی کو فل لوڈ کروایا اور فوزی کو خدا حافظ کہہ کر آگے بڑھے۔ کچھ فاصلے تک تو ہم شناسا راستے پر چلتے رہے۔ پھر وہ چیز ہوئی جس کی توقع آپ صرف شاہدہ سے ہی کر سکتے ہیں۔
گاڑی نے اچانک رخ بدلا۔ اب ہم لندن جا نے والی شاہ راہ پر نہیں تھے۔ انھوں نے ٹوم ٹوم آن کیا اور نہ جانے کیا کیا کہ ہم دیکھتے ہی رہ گئے۔ پھر فرمایا۔
لڑکیو! تیار رہنا۔ میں تمھیں ایک ایسی جگہ لے کر جارہی ہوں جس کےلیے مجھے سیّدہ کا انتظار تھا۔
عزت افزائی کا شکریہ۔ مگر ہم جا کہاں رہے ہیں؟
بائی بری (Bibury)، انگلینڈ کا خوبصورت ترین مقام؛ جہاں جانے کی صرف آرزو کی جا سکتی ہے۔ ہم سائرن سیسٹر جارہے ہیں، جہاں کا یہ قصبہ ہے۔ تم ایک ایسی جگہ جا رہے ہو جہاں عموماً پاکستانی بہت کم جاتے ہیں۔

گاڑی دوڑتی رہی۔ روڈ پر ٹریفک بہت کم تھی۔ تقریباً ایک دیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ہم ایک موڑ پر تھے۔ اس موڑ پر ٹریفک کا ہجوم تھا۔ ہجوم سے نکلے تو سائرن سیسٹر میں داخل ہوئے۔ یہاں شاہدہ باجی کچھ تذبذب میں تھیں، شاید راستہ ان پر واضح نہ تھا۔ کار پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی۔ علاقہ کچھ مضافاتی لگ رہا تھا۔ایک نوجوان جوڑے نے ہماری رہنما ئی کی۔
اب ہم بائی بری کی جانب رواں دواں ہوگئے۔ سڑک کے دو رویہ سرسبز پہاڑیاں تھیں۔ سبزے نے زمین کے خاکی رنگ کو ڈھانپ لیا تھا اور ہر جگہ سبز مخملیں خوش نما قالین سا بچھا تھا جو آنکھوں کو تازگی بخش رہا تھا۔ سبزے کے بیچ سر جھکائے گھاس چرتی ہوئی بھیڑوں کو دیکھ کر ہمیں "بابا بلیک شیپ” والی نرسری رائم یاد آگئی۔
اچانک ہی ہمیں بھوک لگنے لگی۔ دور سے ایک ریسٹورنٹ نظر آگیا جس کی پارکنگ میں دو تین گاڑیاں کھڑی تھیں۔ یہ ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ تھا جس میں صرف ایک فردِ واحد بیک وقت باورچی اور ویٹر نیز کاونٹر مین کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ ناشتے کا آرڈر دینے کے بعد شاہدہ باجی نے اس سے گفتگو کی۔ وہ سری لنکن تھا۔ شاہدہ باجی اور انیس سری لنکا جا چکی ہیں یہ جان کر وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے مزید بتایا کہ بائی بری کی جانب زیادہ تر جاپانی اور یورپ کے باشندے آتے ہیں اور پاکستانی باشندوں میں صرف کراچی کے لوگ۔ گویا اب خوش ہو نے کی باری ہماری تھی۔

پیشتر اس کے کہ ہم اور آپ بائی بری پہنچیں، اس کی تاریخ و عمومی تعارف جاننا ضروری ہے۔
انگلینڈ میں واقع یہ دو سو سال پرانا گاؤں اپنی تاریخ اور انفرادی ثقافت کے لیے مشہور ہے۔ کوسٹ وولڈ کی سرسبز پہاڑیاں، گھنے درخت اور خوشگوار موسم اس کی اہم خوبی ہے۔ موسم گرما میں بھی اس کا درجہ حرارت 17 سینٹی گریڈ سے بڑھ نہیں پاتا۔ یہاں مکانات ایک خاص پتھر سے تعمیر کیے گئے ہیں جس کا رنگ شہد کی مانند ہے، اس لیے اس کو honey stone village بھی کہا جاتا ہے۔ پورے برطانیہ میں اس رنگ کے پتھروں کی کوئی اور عمارت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مکانات اور ان کا انداز تعمیر اس گاؤں کو ایک خصوصی انفرادیت بخشتا ہے۔ ماضی میں یہاں جولاہے آباد تھے اور ویلنگٹن روڈ پر بنی ان عمارتوں میں بھیڑوں سے حاصل کردہ اون کو بُنا جاتا اور مقامی مل کو فراہم کیا جاتا تھا۔ اسی مل کے ایک کرافٹ مین اور آرٹسٹ، ولیم موریس، نے اسے ’’خوبصورت گاؤں‘‘ کے خطاب سے نوازا اور ابھی تک اس اعزاز کو کوئی چھین نہیں سکا۔ محض دس کلومیٹر رقبے پر محیط اس گاؤں کو آثارِ قدیمہ سے زیادہ ایک ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ہے اور اب اس گاؤں کی دیکھ بھال اوررکھ رکھاؤ کی ذمہ دار حکومت برطانیہ ہے ۔
ریسٹورنٹ سے نکل کر ہماری گاڑی ایک ایسی سڑک پر رواں تھی جس کے دو رویہ درختوں کی قطاریں یوں کھڑی تھیں جیسے ہر آنے والے سیاح کو سلامی دے رہی ہوں۔
سیاحوں کی گاڑیاں اب بائی بری میں داخل ہو رہی تھیں۔ ہم نے بھی ایک مناسب جگہ دیکھ کر گاڑی پارک کی۔اور سیاحوں کے ہجوم میں شامل ہو گئے۔

نظاروں کے حسن سے مبہوت غیر ملکی سیاحوں کے بشاش چہروں کی خوشی چھپائے نہ چھپتی تھی۔ ہم بھی ان ہی میں شامل تھے۔ گاؤں کے بیرونی جانب ہی سوان ہوٹل کا دلکش باغ نظر آیا۔ وہاں کوئی شادی کی تقریب تھی۔ نوجوان انگریز عورتیں خوبصورت ہیٹ سر پر پہنے اور بوڑھی عورتیں گھیردار فراک میں ملبوس چہل قدمی کرتے ہوئے ہوٹل میں داخل ہو رہی تھیں۔ ہم نے سوان ہوٹل کو اپنی فہرست میں سب سے آخر میں رکھا اور بائی بری کے گاؤں میں داخل ہوئے۔ ہم ہی نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ساتھ ایک سبک خرام نہر بھی گاؤں میں داخل ہورہی تھی۔ اس نہر کے دونوں کنارے یہ گاؤں آباد ہے۔ نہر کے کنارے پھولوں کی جھاڑیوں سے لدے ہوئے تھے۔ ہر چند قدم پر چھوٹی چھوٹی سیڑھیاں نہر میں اترتی نظر آتی ہیں جن سے اتر کر نہر کے نیلگوں پانی میں اپنا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔ نظارے کو خوب جی بھر کے آنکھوں میں سمونے کے بعد کیمرے میں اتارنے کی ٹھانی۔ یہاں فوٹوگرافی کے بعد ہم اصل گاؤں میں داخل ہوئے۔

حسن کا یہی طرہ امتیاز رہا ہے کہ وہ دل میں نظر میں اور احساس میں بس جاتا ہے لیکن اس کی لفظی تصویر کشی پوری طرح ممکن نہیں ہو پاتی۔ اف! میرے پاس بھی وہ الفاظ نہیں کہ میں اس احساس کو بیان کر سکوں۔ ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے کے بعد سے یہ سرکاری تحویل میں آچکے ہیں اور اب ان مکانوں میں کوئی نہیں رہتا لیکن پھر بھی زندگی یہاں کی مکین معلوم ہوتی ہے۔ گھروں کے دروازے مقفل ہیں مگر دروازوں کے آگے، کھڑکیوں میں اور گیٹ پر جابجا پھول کھلے ہیں۔ ہری بھری سرسبز باڑھیں لگائی گئی ہیں۔ جو بڑے مکانات ہیں ان کے آنگن کی تراش خراش سے مکینوں کےانتہائی باذوق ہونے کا گمان گزرتا ہے۔ زندگی کچھ اس شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ گویا ابھی کوئی اندر سے آئے گا اور ہم سے مصافحہ کرے گا۔
ہم بائی بری کی اونچی نیچی گلیوں میں کبھی بلندی پر چڑھتے اور کبھی بلندی سے اترتے رہے۔ معلوم ہوتا تھا کہ ہمیں کسی شناسا چہرے کی تلاش تھی، جیسے ہم کسی کو ڈھونڈ رہے تھے۔ لیکن ہمارا کون تھا یہاں جو گم ہو گیا تھا؟ ہاں ہم خود گُم تھے، مگن تھے، سحر زدہ تھے۔

ایسے درخت بھی نظر آئے جن کا تنا اس قدر گھیردار تھا کہ اس کے پیچھے کئی آدمی چھپ سکتے تھے۔ گھنیرے درختوں کی شاخیں اس قدر پھیلی ہوئی تھیں کہ پوری سڑک پر دھوپ کا نام و نشان نہ تھا۔ درختوں سے آتی پرندوں کی دل خوش کن آوازیں، پھولوں کی معطر مہک، ٹھنڈی گھنی چھاؤں اور تازہ ہوا۔
یونہی بےخود سے چلتے چلتے ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں سے پانی کے بہنے کی سریلی آواز آرہی تھی۔ چند قدم اور بڑھے پھر ساکت ہوگئے، درختوں کے نیچے سے گزرتی شفاف نہر، پانیوں میں درختوں کا مکمل ترین عکس، جیسے شیشے کی سطح کے دونوں اطراف ہوبہو ایک جیسے درخت اگے ہوں، سبزے سے ڈھکے نہر کے کنارے، اور اس سبزے پر منڈلاتی رنگین تتلیاں۔ دو آنکھوں سے کیا کچھ دیکھا جاسکتا ہے۔ شاید مجھ ناچیز میں وہ سکت ہی نہیں کہ قدرت کی اس خوبصورتی کو الفاظ کا جامہ پہنا سکوں۔ درِدل کھول کر آئیے اور میرے ساتھ اور ان گلیوں میں بھٹک جائیے۔ اوراقِ مصور جیسے ان نظاروں کے تصور سے مجھےامجد اسلام امجد کی نظم بے طرح یاد آرہی ہے۔

جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے
تیرے میرے ابد کا کنارہ ہے یہ
استعارہ ہے یہ
روپ کا داؤ ہے
پیار کا گھاؤ ہے
جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے
صبح دم، جس گھڑی، پھول کی پنکھڑی
اوس کا آئینہ جگمگانے لگا
ایک بھنورا وہیں، دیکھ کر ہر کہیں
شاخ کی اوٹ سے سر اٹھا نے لگا
پھول، بھنورا، تلاطم ہے، ٹھہراؤ ہے
جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے
خواب کیا کیا چنے، جال کیا کیا بنے
موج تھمتی نہیں، رنگ رکتے نہیں
وقت کے فرش پر، خاک کے رقص پر
نقش جمتے نہیں، ابر جھکتے نہیں
ہر مسافت کی دوری کا سمٹاؤ ہے
جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

نہ چاہتے ہوئے بھی اب ہمیں اس جادو نگری سے نکلنا تھا۔ سوان ہوٹل کے دل کش باغ کو بھی دیکھا لیکن یوں جیسے ہم نے خانہ پری کی ہو۔ بائی بری دیکھنے کے بعد اس کے آگے ہر چیز ہی ہیچ لگنے لگی۔
سوینئر شاپ سے لٹریچر اور پمفلٹ لیا۔ کچھ یاد گار چیزیں خریدیں، کافی پی اور قدرت کے حسن کی توانائی سے معمور دل کے ساتھ ایک نیا حوصلہ اور امنگ لیے واپسی کا راستہ پکڑا۔

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

One thought on “بائی بری – شہد کے پتھروں کا گاؤں”

  1. بےساختگی، سادگی، روانی اور برجستگی کے ساتھ شاعرانہ الفاظ سے مزین سفرنامہ مجبور کر رہا ہے کہ گھر سے نکلیں اور بائی بری کی جانب چل پڑیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے