نقطۂ نظر

عوام کے بنیادی مسائل سے مجرمانہ چشم پوشی

ایک عجب سی افراتفری کا عالم ہے جہاں ہر کسی کو صرف اپنا مفاد عزیزہے، پھر چاہے دوسرا جائے بھاڑ میں ۔ کوچۂ سیاست کی طرف نظر دوڑائیں تو واضح دکھائی دیتا ہے کہ عوام کے بنیادی مسائل کی طرف کسی کی توجہ نہیں بلکہ ہر کوئی اقتدار اور اختیارات حاصل کرنے کے چکر میں ہے۔ اپنے مفادات پر ہلکی سی آنچ بھی آئے تو سیاستدان اور پارٹیاں چیخ اٹھتی ہیں مگر عوام کو براہ راست متاثر کرنے والے مسائل کی طرف کوئی سنجیدگی سے توجہ نہیں دیتا۔ عوامی مسائل پر احتجاج، دھرنے اور مارچ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کو حل کرنے اور کروانے کے لیے عملی طور پر کوئی بھی پیش پیش دکھائی نہیں دیتا۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ ہمارے پيارے ملک کو آزادی حاصل کيے ہوئے لگ بھگ سات دہائیاں بيت چکی ہیں اور اس عرصہ میں ہمارے بعد آزاد ہونےوالے ممالک ہم سے کہيں آگےنکل گئے ہیں جبکہ ہم ترقی کے سفر میں بہت پیچھے رہ گئے۔ نہ ہی ہم ملک کو حقیقی معنوں میں جمہوری اور نہ ہی ایک فلاحی ریاست بنا سکے۔ استحصالی نظام بھی جوں کا توں نظام میں اپنے پنجے گاڑے بیٹھا ہے۔ خواص وسائل سے لطف اندوز ہورہے ہیں جبکہ عوام مسائل سے دوچار ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ستر سال کی اس عمر میں ہم نے زیادہ تر غلطیاں ہی کی ہیں۔ ان غلطیوں کا خمیازہ کبھی ہمیں اپنے مشرقی بازو کے کٹ جانے کی صورت بھگتنا پڑا تو کبھی دہشت گردی کے عذابِ مسلسل کی شکل میں، کبھی ملا گردی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی صورت تو کبھی نااہل مفاد پرست سیاست دانوں کی فوجِ ظفر موج کو خود پر مونگ دلتے دیکھ کر۔

محترم قارئین، زندہ قوميں ہميشہ اپنی غلطيوں کی نشان دہی،ان کا اعتراف اور سدباب کرتی ہيں۔ ياد رکھيے ملک اورمعاشرے کوناسورکی طرح چاٹنے والی بيماريوں کی نشان دہی اور ان کا سدباب ہی ہماری کاميابی کی کنجی ہے۔ بنیادی مسائل کی طرف توجہ دے کر ہی کامیابیوں اور کامرانیوں کو سمیٹا جا سکتا ہے۔

اگر ہم اپنے مسائل کی طرف دیکھيں تو معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پرستی نے ہمارے ملک کی معیشت اور ترقی کو شدید نقصان پہنچايا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ميں رکاوٹ بننے والی ان بیماريوں کا مکمل سدباب بے حد ضروری ہے۔ بلاشبہ ہماری مسلح افواج کی لازوال قربانيوں کی وجہ سے آج حالات بہتر ہيں مگرمزيد اصلاحی اقدامات کی خاصی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ مزید برآں، کرپشن کا ناسور بھی ہماری جڑوں کو کھوکھلا کررہا ہے۔ کتنی بڑی ستم ظريفی ہے کہ کرپشن کی بيماری ہماری نس نس ميں سرايت کر چکی ہے۔ اسی طرح سفارش و اقرباپروری نے بھی ہماری ساکھ کو شديد نقصان پہنچايا ہے۔ حق اور ميرٹ کی پامالی بھی ہماری ترقی ميں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

قارئین،يکساں اور فوری انصاف کامياب قوموں کی پہچان ہوا کرتا ہے۔ ہمارے دين کی تعليمات اور کامياب معاشروں کا مطالعہ بھی ہميں اپنا نظام عدل بہتر کرنے کا سبق دیتے ہيں۔ امير، غريب اور چھوٹے، بڑے کا فرق روا رکھے بغير فوری انصاف قوموں کی ترقی کا ضامن ہوا کرتا ہے۔ اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مہنگائی کی شرح ميں ہوشربا اضافے نے عوام کا جينا محال کر رکھا ہے۔ غريب کے ليے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ امیر اور غريب ميں بڑھتے ہوئے فرق نے غريب کےاندر شديد مايوسی پيدا کر دی ہے۔ غريب کی قوتِ خريد کو مد نظر رکھ کے قیمتوں کا تعين اور کمی بیشی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز عوام کو کسی قدر رعایتی نرخوں پر اشیائے ضروریہ فراہم کرتے تو ہیں لیکن ان کا دائرہ کار بڑھانے نیز معیار میں بہتری لانے کی بھی ضرورت ہے۔ ہمارے سماج میں غریبوں کے بھی درجات ہیں، جیسے یتیم، معذور، بے روزگار، بیمار افراد جن کے کفیل موجود نہیں ہیں ۔ بہت سے غریب افراد ایسے بھی ہیں جو راشن و دیگر سامان رعایتی نرخوں پر خریدنے سے بھی قاصر دکھائی دیتے ہیں ایسے پس ماندہ یتیم و معذور غریب افراد کے لیے رعایتی اسکیمیں شروع کی جائیں، مثلاً رعایت کی شرح کے اعتبار سے غریب کارڈز وغیرہ بنوانا تاکہ مستحق افراد زیادہ سستے نرخوں اور بلند رعایتی شرحوں پر اپنی ضرورت کی اشیا حاصل کر سکیں۔

بے روزگاری عروج پر ہے۔ حق دار کو اپنا حق نہيں ملتا۔ بہت سے پڑھے لکھے افراد بھی بےچارے مارے مارے پھرتےہيں جبکہ جاہل اور ان پڑھ حکومتی ایوانوں میں فروکش حکم چلایا کرتےہيں ۔ سی پيک اور معاشی ترقی کے نام نہاد دعووں کے ثمرات بھی ابھی تک پڑھے لکھے، غريب اور ضرورت مند طبقے تک نہيں پہنچ سکے ہیں۔ بلکہ سستی چینی مصنوعات کی یلغار کے باعث سی پیک کے ہاتھوں ملکی چھوٹے تاجر اور دست کار کے حقوق کی پامالی دکھائی دے رہی ہے۔

کچھ علاقوں میں لوڈشيڈنگ ميں واضح کمی ضرور دیکھنے میں ميں آ آئی ہے مگر تمام تر دعووں اور اعلانات کے باوجود تاحال اس کا مکمل خاتمہ نہيں ہو سکا۔ ہاں روز افزوں بلوں نے ضرور عوام کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔ قومی ترقی کے پہیے کو چلانے کے لیے لوڈشيڈنگ کا مکمل خاتمہ بھی اشد ضروری ہے جس کی وجہ سے ڈیمز کی تعداد ميں اضافہ ناگزیر ہوچکا ہے اور ساتھ توانائی کے متبادل اور سستے ذرائع پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔

بنيادی سہولتیں اور انفراسٹرکچر مثلاً سڑکیں،پانی،صحت و تعليم ،ٹیکس کے نظام کی بہتری کے بغير بھی ترقی کا تصور محال ہے۔ عوام سے حاصل کيا گیا ٹیکس کا پیسہ خواص کی عیاشیوں پر خرچ کرنے کے بجائے عوام کو سہولتوں کی فراہمی میں استعمال ہوتے دکھائی دینا چاہیے۔

قارئین ، مندرجہ بالا نکات کے علاوہ بھی بےشمار مسائل اور مشکلات ہیں جن کا فوری سدباب بے حد ضروری ہے۔ عوام کو زبانی جمع خرچ سے بیوقوف بنانے کے بجائے عملی اقدامات کیے جانا اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے