سماج نقطۂ نظر

افواہ سازی ایک قبیح گناہ!

ارے بہو سنتی ہو! یہ ٹی وی والے کہہ رہے ہیں زوروں کا  سیلاب آنے والا ہے  اس لیے اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقام پر چلے جائیں۔

یار کیا بتاؤں، میرے ایک جاننے والے نے خود اپنی گناہ گار آنکھوں سے  میرے باس کو   ان محترمہ کے ساتھ  گاڑی میں جاتے دیکھا تھا، ہو نہ ہو یہ تو گلچھرے اڑاتے پھرتے ہیں، اسی لیے تو ان کی پروموشن ہوئی ہے۔

ارے بی بی کیا بتاؤں، آپ کی جٹھانی صاحبہ نے تو اپنے داماد کو لوٹ کر کنگال کر دیا ہے، توبہ توبہ !

کیا کہا، عامر لیاقت اسپتال میں؟ ارے اس بڑھاپے میں شادی کی ہے ضرور "ممنوعہ دوا” کی زیادہ ڈوز لے لی ہوگی۔  ہاں ہاں سوشل میڈیا پر بھی یہی پوسٹ کر رہے ہیں لوگ۔

یہ اور اس جیسی کئی افواہیں مختلف گھروں میں جنم لیتی ہیں یا سوشل اور نیوز میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلائی جاتی ہیں۔ پہلے ایسی افواہیں صرف گھر توڑتی تھیں تو اب یہ حکومتیں اور ادارے کم زور کر دیتی ہیں۔  ان افواہوں سے انسان اکثر و بیشتر  اپنے جاننے والوں کے سامنے ہی شرمندہ نہیں ہوتے بلکہ کسی کے بولے گئے جھوٹ کے باعث  ساری زندگی کی رسوائی سے ڈر کر موت کو بھی گلے لگا لیتے ہیں۔

  آج کل اکثریت انتہائی ذوق و  شوق سے سوشل میڈیا استعمال  کرتی ہے جہاں محض سنسنی اور  ہزاروں لائیکس کے لالچ میں دن رات  ایسی خبریں گھڑی جاتی ہیں۔ ٹیکنالوجی  کے استعمال سے  تصاویر کو ایڈٹ کرکے ان خبروں کو حقیقت کا رنگ دے کر افراد کی بھیڑ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک افواہ یا جھوٹی خبر کے بعد   سوشل میڈیا ٹرولنگ کا ذلت آمیز سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ گالیاں، کوسنے، طعنے شروع ہوجاتے ہیں اور ایڈیٹڈ تصاویر کے ذریعے  بات کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا جاتا ہے۔ ان افواہوں کی زد سے بچنا ناممکن ہی محسوس ہوتا ہے۔

یہ افواہیں جو بظاہر بے ضرر لگتی ہیں یا  کسی مذاق و ایڈونچر کا حصہ ان کے نتائج ہی سنگین نہیں ہوتے بلکہ یہ جھوٹ، غیبت، افتراپردازی،  بہتان، تہمت، شرانگیزی جیسے قبیح  جرائم  کی تعریف پر بھی پوری اترتی ہیں۔ مذکورہ  رزیل جرائم  کی اسلام میں بھی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور وعید فرمائی گئی ہے۔  یہاں تک کہ غیبت کو زنا سے بھی بدتر گناہ قرار دیا گیا ہے۔

اسلام ہی نہیں ہر مہذب مذہب و معاشرہ ان تمام رزائل  کو ناپسند کرتا ہے۔  افواہ سازی کرنے یا ان کو پھیلانے کا حصہ بننے والے دراصل اس کی سنگینی سے واقف ہوئے بغیر جس طرح اس بدترین نیٹ ورک کا حصہ بن جاتے ہیں یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ میری قارئین سے گذارش ہے کہ  ایک اچھے انسان، ایک مذہب کا حصہ ہونے اور ایک سچے پاکستانی کی حیثیت سے کسی افواہ کا حصہ بن کر اپنے نامۂ اعمال اور اپنے ملک و قوم کو نقصان پہنچانے میں شریک نہ ہوں۔

سحر صفدر
آرٹ سے شغف ہے اور تدریس ان کا پیشہ۔ شاید اسی لیے سماج کو تعلیم کے آئینے میں دیکھتی ہیں اور دردمندی سے قرطاس پر منتقل کر دیتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے