زبان و ادب کتب خانہ

’محبت کی کتاب‘ کے بارے میں

جب سنبل افراز کو ظفر کا پہلا SMS ایک مشہور نظم کی صورت میں ملتا ہے تو اسے غصہ آتا ہے، جھنجھلاہٹ ہوتی ہے، مگر یہ خیال اس کے دل میں ذرا بھی نہیں آتا کہ یہ اس کی زندگی میں محبت کی ابتدا ہے۔ سنبل خود شاعرہ ہے، اس کا اپنا دل نظم بن کر دھڑکتا ہے، مگر اسے نہیں پتا کہ محبت سراپا شاعری ہے اور جب دو دل شاعری کی زبان میں بات کرنے لگیں تو دونوں شعر کے دو مصرعوں کی طرح ہوتے ہیں، کسی ایک کے بغیر شعر نہیں بن پاتا، محبت مکمل نہیں ہوسکتی۔
’’محبت کی کتاب‘‘ صفحہ در صفحہ سنبل اور ظفر کی ہی محبت کی کہانی نہیں، سب محبت کرنے والوں کی داستان ہے۔ محبت کے مظاہر مختلف ہوسکتے ہیں، محبت وہی رہتی ہے۔


ایوب خاور کی ’’محبت کی کتاب‘‘ محبت سے معمور ایک ایسی کتاب ہے جسے پڑھنے والا اپنے دل میں محبت کے شگوفے پھوٹتے ہوئے محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کتاب کے ورق ورق، سطر سطر سے پھوٹتی محبت کی کرنیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اس کا تخلیق کار کس قدر محبت کرنے والا شخص ہوگا۔
مصنف کی اجازت کے ساتھ، نوشتہ یہ کتاب اپنے قارئین کے لیے پہلی بار آن لائن شائع کرنے کا اعزاز حاصل کر رہا ہے۔ یکم اگست سے یہ کتاب قسط وار پیش کی جائے گی۔ لیکن اس سے پہلے کہ آپ کتاب پڑھ کر بے ساختہ محبت کی گواہی دے اٹھیں، اس کتاب کے حوالے سے اردو کے چند نامور لکھاریوں کی آرا پیشِ خدمت ہیں۔


گلزار:
ایوب خاور سراسر آج کے دور کا، آج کی پیڑھی (نسل) کا شاعر ہے۔ ایوب خاور نے وہ کام کیا ہے جو صرف وہی کرسکتا تھا۔ یہ صرف شاعر کا کام نہیں۔ ایسے فن کار کی شخصیت کا تھری ڈائی مینشنل ہونا ضروری ہے۔ اور یہی نہیں، تینوں تہوں میں ماہر ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔


شمس الرحمٰن فاروقی:
مجھے یقین ہے کہ ٹی وی اور شاید اسٹیج پر بھی ’’محبت کی کتاب‘‘ کو نہایت عمدگی اور کامیابی سے پیش کیا جاسکتا ہے لیکن ہم جو اسے اپنے ہاتھوں میں لیے چپ چاپ کسی کمرے یا کتاب خانے میں پڑھ رہے ہیں، ہمیں ہر منظر کسی طویل نظم کے بند جیسا لگتا ہے اور اگرچہ کہانی بھی ہمیں اپنی گرفت میں لینے لگتی ہے لیکن جو چیز ہمارے احساس پر سے اپنی گرفت ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ڈھیلی کرتی، وہ ’’محبت کی کتاب‘‘ کی شاعری ہے۔ اگر میں نے اپنی آنکھوں سے اسے نہ دیکھا ہوتا اور اپنے کانوں سے نہ سنا ہوتا تو میں یقین نہ کرتا کہ منظوم ڈرامے کی صنف میں آج ایسی شاعری ہوسکتی ہے۔ اس ڈرامے میں شاعری کا وفور کتنا ہے، اس بات کا کچھ اندازہ آپ اس بات سے کرسکتے ہیں کہ اس کی اسٹیج ہدایات بھی منظوم ہیں۔
’’محبت کی کتاب‘‘ غیر معمولی کتاب اور مدتوں تک یاد رکھنے کے لائق کارنامہ ہے۔


ڈاکٹر انور سجاد:
مجھے لگتا ہے کہ ایوب خاور نے ویلن ٹائن ڈے کے موقع پر ایک سفید پھول کو محبت کی سرشاری میں ڈوبے ہوئے مرکزی کرداروں کے خون سے سرخ کرتے ہوئے موجودہ سیاسی منظرنامے پر ایک ایسا کمنٹ کیا ہے جس کی طرف کسی اور شاعر کا دھیان شاید ابھی تک نہیں گیا۔ ایوب خاور نے ویلن ٹائن کی محبت بھری سرخی کو دہشت گردی کی خونی دلدل میں ڈھال کر دنیا بھر میں پھیلی ہوئی بے امنی اور خونی انقلابات کے خلاف احتجاج کیا ہے اور میں اپنے آپ کو اس احتجاج میں شامل سمجھتا ہوں۔


مستنصر حسین تارڑ:
ایوب خاور نے محبت کی ایک اور کہانی بیان کرنے کے لیے اپنا ایک امکان تخلیق کر لیا ہے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ محبت کی اس کتاب میں ایوب خاور نے بھی شدت پسندی اور طبقاتی کشمکش میں گھرے ہوئے پاکستان میں رومیو اور جولیٹ جیسے معصوم کرداروں کی محبت کو ایک نئی جہت دینے کی کوشش کی ہے۔


امجد اسلام امجد:
ایوب خاور نے اس مختلف انداز کی تحریر میں اپنے اندر موجود تینوں صلاحیتوں، یعنی شاعری، ڈراما نگاری اور ڈائریکشن کو جس تخلیقی اُپچ اور فن کارانہ مشاقی کے ساتھ استعمال کیا ہے اس کی داد نہ دینا یقیناً بے انصافی ہوگی۔ یہ ایک ایسا منظوم ڈراما ہے جو لکھا تو نوجوان نسل کے لیے گیا ہے لیکن اس سے بڑی عمر کے لوگ بھی یہ سوچ کر مستفیض ہوسکتے ہیں کہ ’’یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہوجائے‘‘۔

نوشتہ ویب ڈیسک
نوشتہ ہمارے سماج کا کیتھارسس بھی ہے اور ہماری اخلاقی روایات کا امین بھی۔ ہم آزادیِ اظہار کے قائل ہیں تاہم آزادیِ اظہار کے نام پر نفرت کی ترویج کے مخالف بھی۔ ہم ایک صحت مند، معتدل اور متوازن بیانیے کے ساتھ آپ کے ساتھ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے