سماج لائف اسٹائل نقطۂ نظر

آئی بسنت پالا اڑنت

بسنت منانے پہ پابندی ہے۔ مگر متوالے منائیں گےاور خوب منائیں گے اور منانی بھی چاہیے منانے کو ہے بھی کیا ہمارے پاس۔ جب بھی کوئی تہوار مناؤ۔ مردہ دل ناک بھوں چڑھاتے ہیں کہ یہ تہوار ہندو ہے،  یہ عیسائی ہے، اب ثقافتی تہواروں کا  بھی مذہب ہونے لگا، وہ بھی مسلم، غیر مسلم ہونے لگے۔ چلیں امید ہے کہ کبھی نہ کبھی یہ کلمہ پڑھ لیں گے۔

زیادہ  پرانی بات نہیں ہے، زندگی بڑی خوبصورت  ہوتی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی میں کلاسز جاری تھیں۔ سارا ہوسٹل سردی اوڑھے تھا کہ اچانک سردی نے کروٹ لی۔ ٹھٹھرے جذبات میں ہلچل مچی جب غل اٹھا کہ بسنت آ رہی ہے۔ تیاریاں شروع۔ہر ڈپارٹمنٹ کے لڑکے لڑکیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ بسنتی رنگ ہاسٹل کیا ہر ڈپارٹ میں لہرایا۔ سب چہرے ہنستے مسکراتے۔ ڈور اور پتنگوں سے درو دیوار سجنے لگے۔ لڑکوں نے پتنگوں کو اپنی اپنی پسندیدہ لڑکیوں کے نام دے دیے۔ یہ بات لڑکیاں بھی جانتی تھیں۔

ڈھول والا آیا۔ خوب ڈھم ڈھم ڈھما ڈھم بجا۔ لڑکے پنجا بی ڈپارٹمنٹ کے تھے یا فارسی، اردو کے؛ اورینٹل کالج میں رونق لگ گئی۔ 

اردو بازار جاتے ہوئے سڑک پر سارا دن، درختوں کے تنوں سے جو ڈور لپٹی تیار ہوتی تھی۔ بسنت پہ خوب  بکی۔ محنت وصول ہوئی۔

اندرونِ لاہور کی چھتوں پہ لگے پیچے بسنت پہ وصل کے لمحوں سے سرشار قہقہے لگاتے۔

ساری رات کھیر تیار ہوتی، باربی کیو، اور مزے مزے کے کھانے بنتے۔ کوئی نہ تھکتا۔

صبح ہوتے ہی چھت پہ قالین دریاں بچھائی جاتیں۔ بڑی پھوپھو، چھوٹی پھوپھو، خالائیں، چچا، ماموں سب کے بچے اپنے والدین سمیت جمع ہوتے۔ سب اپنے اپنے گھر سے ایک ڈش بنا کر لاتے اور دوپہر کے کھانے تک بڑوں کی پتنگ بازی ہوتی۔ ہر فیملی کی باری پہ سپورٹر بچے سا تھ آ کھڑے ہوتے۔ پھوپھا کے بچے شور کر رہے ہیں۔ ابا جی ڈور ڈھیلی کریں۔ پھر دائیں طرف لے جا کر تکل کو کاٹیں۔ بیوی کہتی اجی سنیے! وہ جامنی پری کے ساتھ پیچا نہ لگانا۔ اس کا پہلے ہی ہرے گڈے کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

ادھر ڈور کو ڈھیل کے بعد کھینچا۔ شیخوں کے گھر سے نیلے گڈے نے کاٹنے کی کوشش کی۔ ابا جی نے اپنا رخ بدلا اور سامنے والی چھت پہ مرزا صاحب سے بولے،

” مرزا جی! بچیے  پیچا لگنے کو ہے۔” مرزا جی کے ساتھ کھڑی بیٹی موچی گیٹ میں رہنے والے ماموں کے بیٹے کو پسند ہے۔ بولی ابو جی ! لگائیں پیچا اور بو کاٹا کریں۔ لیجیے صاحب کی چھت پہ  پیچا لگ گیا۔ اب ماموں کا بیٹا عدیل چھت پہ بٹھائے گئے ڈھول والے سے بولا ” پا جی ! بجاؤ ڈھول !

کان پڑی آوازیں سنائی نہیں دے رہیں۔ اشاروں سے ایک دوسرے کو کہا جا رہا ہے ” اب بچ کے دکھائیں۔ سب کا لاڈلا شملہ پہاڑی سے آیا  ببلو دیوار سے لٹک کے چیخ رہا ہے۔ ناچ رہا ہے۔ ماموں  نے سائیڈ بدلی، کٹ مارا اور یہ مارا۔ بو کاٹا کا شور مچا۔ مرزا جی کا ہرا گڈا کٹ گیا، بیٹی مسکراتے عدیل کو نظروں سے ڈپٹ رہی ہے ” یہ اچھا نہیں کیا” عدیل ہوائی معافیاں مانگ کر منا رہا ہے۔ سب کی نظروں سے بچ کر مگر ببلو نے دیکھ لیا۔اس نے ڈھول والے کو آرام کرنے کو کہا اور ڈیک پہ گانا لگادیا

” پتنگ باز سجنا سے

پتنگ باز بلما سے

آنکھوں آنکھوں میں الجھی ڈور

لگا پیچا تو مچ گیا شور”

ساتھ ہی سب نے بھنگڑا ڈالنا شروع کیا۔ مرزا جی نے بھی اپنی چھت پہ اپنی شکست کو کھلے دل سے قبول کیا اور بھنگڑا ڈالنے لگے۔

ہرا گڈا دھیرے دھیرے نیچے آنے لگا۔ گلی میں بانس پکڑے لڑکے بھاگے۔ اب کٹا گڈا۔۔۔ پکڑنے کئی لپکے۔ مگر پچھلی گلی کا بھولا صرف نام کا بھولا ہے۔ کٹی پتنگ اس سے زیادہ اچھی کوئی نہیں لوٹتا۔ مرزا کا کٹا گڈا وہ مین سڑک پہ جاکے لوٹ لایا تو چھوٹے چھوٹے بچے ساتھ چل پڑے۔ وہ خرید نہیں سکتے۔ مگر کٹی پتنگ لوٹ کر اڑاتے ہیں۔ بھولا اکثر پتنگ لوٹ لوٹ کر ایسے بچوں کو دیتا ہے۔

دوپہر ہوئی۔ ظہر کی اذان جیسے ہی مسجد سے آئی۔ ڈیک بند۔ ڈھول والا بھی سر جھکا ئے عقیدت سے بیٹھ گیا۔ہر طرف سناٹا ہوگیا۔ سارے محلے کی تائی کی آواز گونجی۔

"اب نماز بھی پڑھو نہیں توسب پتنگوں کو آگ لگا دوں گی”

سب بھاگے مسجد کی طرف۔ مگر کچھ نماز چور دیوار کے ساتھ لگ کے بیٹھ گئے۔ وہ لگے پیچے کو یونہی نہیں چھوڑ کے جا سکتے۔

نماز کے بعد دستر خوان سجنے لگے۔ گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بڑے اب تھکے بیٹھے ہیں۔ سب کے بچے ان کے بازو، کندھے دبا رہے ہیں۔ لڑکیاں سیڑھیاں اترتی چڑھتی اپنی اپنی گرما گرم ڈشز لا کر رکھ رہی ہیں۔ بڑے ماموں کی مونا نے چھوٹے ماموں کے بیٹے، اپنے منگیتر ریحان کی خاص فرمائش پہ شامی کباب بنائے ہیں۔سب ریحان کو چھیڑ رہے ہیں۔

"بھئی کباب تو ریحان کے ہیں اور کوئی نہ کھائے” مونا اپنے ابا کو ہاتھ دھو کر آتے دیکھ کر بچہ پارٹی کو گھورتی ہے۔ مرزا صاحب کے گھر سے بھی کھانا آرہا ہے۔ بڑے ابا نے کھڑے کھڑے دودھ دہی والے چچا غفور اور فیملی کو بھی بلا لیا۔ انھوں نے ساری رات کھیر بنائی۔ چاندی کے ورق سے سجی پلیٹیں اشتہا کو بڑھا رہی ہیں۔

بڑی چھت پہ اب سب جمع ہیں۔ پیچا لگانے والا کھڑے کھڑے آواز لگاتا ہے۔

"یار ! ایک بوٹی تو چیک کروا”

شام ہوتے ہی چھتوں پہ لگے بلب روشن ہوئے۔ دو بانس جوڑ کر پانی والی ٹینکی پہ تار اور دو بلب لگنے سے ساری چھت اور دور دور تک روشنی ہوگئی۔

اب نوجوانوں کی باری ہے۔ اور رات بارہ بجے تک ہلا گلا رہے گا۔ سارے دن میں کئی بچوں کے چوٹیں لگیں۔سر پھٹے۔ مگر جوش ہے کہ کم نہیں ہوا۔ مائیں چیخ رہی ہیں۔ دواکھا لو۔ آرام کر لو۔ مگر سر اور آنکھیں ہیں کہ بس آسمان پہ اڑتی نیلی پیلی سرخ ہری اور کالی پتنگوں کا طواف کر رہی ہیں۔

ایک رنگ رنگیلا دن تیزی سے گزر جاتا۔۔۔ مگر 

بٹ ہوں یا شیخ ، سید ہوں یا کوئی بھی سب کے لڑکے لڑکیوں کے لگے پیچے کامیاب ہوئے۔ آج ان کی اولادیں بٹوں کے یا شیخوں کے ہاں پروان چڑھ چکی ہیں۔

جب بھی نوجوانوں سے ان کے کھیل، جنون، قہقہے چھینے جائیں گے۔

رات کے اندھیروں میں ننھی چیخیں جنم لیں گی۔۔۔

ذہنی دباؤکی شکار ماں اپنی اولاد کو پانی کی نذر کریں گی۔۔۔

سمندر کا بھلا ہو

بڑا ظرف ہے اس کا

ساری کائنات کی غلاظت ہڑپ کرجاتا ہے۔۔۔

مگر بدہضمی کروابیٹھتا ہے

سب نے اپنی رنگ رلیوں کا ساماں چوری چھپے کر رکھا ہے

مگر کھرے سچے  

سر پہ ٹوپی لے کر

فون پہ لڑکیوں سے معاشقہ نہیں چلاتے

کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں

اور 

ٹوپیوں سے ہزار لعنت ان پہ برسائی جاتی ہے

کہنے والے کہتے رہ گئے

نیچرل انداز سے جینے دو

یہ بےچارے سارا دن سر کھپاتے ہیں

افسوس!

ان کے پاس حرم میں نہ کنیزیں نہ لونڈیاں ہیں

یہ اپنی پہنچ میں عورت سے عشق کیوں نہ کریں

کسی کا کیا بگڑتا ہے

سب باہمی فائدے اور رضامندی کی بات ہے

بس اس سے پہلے کہ

ہمارے بچے منافق ہوجائیں

سجدوں میں

کسی خواہش میں سر پٹکتی رہے

ان کو بسنت منانے دو

مگر

پابندی قاتل ڈور پر ضرور لگاؤ

صفیہ حیات
اردو زبان و ادب کی لیکچرار، ریڈیو صداکار اور متعدد نثری تحاریر کی خالق اور ان سب سے کہیں بڑھ کر صفیہ حیات جدید آزاد اردو نظم کی ممتاز شاعرہ ہیں۔ ایک حساس، نرم گو شاعرہ جو اپنے خلوص کے نشتر انتہائی محبت سے سماج کے رستے ناسور میں چبھو کر اسے جڑ سے نکال پھینکنے کو کوشاں ہیں۔

2 thoughts on “آئی بسنت پالا اڑنت”

    1. بالکل متفق، بہت مزہ آیا ان کی نثری شاعری کا۔ بسنت کا جو نقشہ کھینچا ہے واقعی آنکھوں میں پھر گیا وہ منظر اپنی جزئیات سمیت۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے