نقطۂ نظر

یہ کیسی جمہوریت ہے

حقیقی جمہوریت میں عوام کی حکومت خالصتاّ عوام کے ووٹوں سے اور عوام کی خدمت کے لیے بنتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے ریکارڈ اور عوامی فلاح و بہبود کے حامل منشور کے بل بوتے پر عوام سے ووٹ مانگتی ہیں۔  عوام کو بغیر کسی دباؤ کے اپنا حق رائے دہی  استعمال کرکے نمائندگی کا موقع دیا جاتا ہے۔  کوئی بھی ووٹر بے شک غریب ہو یا امیر الیکشن میں کھڑا ہو سکتا ہے۔ انتخابی مہم میں شائستگی کا عنصر پایا جاتا ہے۔  غریب امیدوار کے انتخابی اخراجات اس کی جماعت برداشت کرتی ہے۔ انتخابی اخراجات بھی محدود ہوتے ہیں۔ امیدوار کا ماضی، کردار اور اثاثے عوام کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔  ہارنے والی جماعت کھلے دل سے نتائج تسلیم کرتی ہے۔ حکومت منتخب ہونے کے بعد اپنے منشور کے مطابق عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔ عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام کو صحت، تعلیم،پانی،روزگار،سڑکیں اور ديگر بنیادی سہولتیں دینے پر خرچ کیا جاتا ہے نہ کہ حکمرانوں اور اشرافيہ کی عیاشیوں پر۔  حکمرانوں اور عوامی نمائندگان کے پروٹوکول اور اخراجات کم سے کم ہوتے ہیں۔  منتخب نمائندے سے انتخابات کے بعد بھی آسانی سے رابطہ کیا جا سکتا۔  تمام حکومتی امور اور پالیسیاں شفاف ہوتی ہیں اور ہر عمل عوام اور آزاد میڈیا کے سامنے ہوتا ہے۔ متناسب نمائندگی کا بھی ایک جامع نظام پایا جاتا ہے۔

ایسی یا اس سے ملتی جلتی جمہوریت دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہے۔  بدقسمتی سے پاکستان کی جمہوریت کا حقیقی اور مہذب ممالک کی جمہوریت سے ذرہ برابر بھی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے ہاں تو جمہوریت کے معانی اور خدو خال یکسر ہی تبدیل ہو جاتے ہيں۔

وطن عزیز میں سیاسی جماعتیں اپنے ريکارڈ،کارکردگی اور منشور کے بجائے پچھلوں کو کوسنے اور گالم گلوچ کے ساتھ عوام کے پاس جاتی ہیں۔  عوام کو ہر بار جھوٹے اور سہانے سپنوں اور وعدوں سے ورغلایا جاتا ہے۔ بے انتہا انتخابی اخراجات نے عام آدمی کا الیکشن میں حصہ لینا ناممکن بنا دیا ہے۔  پاکستان میں آذادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد بذات خود بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اور اسی مبہم صورتحال کی وجہ سے کوئی بھی نتائج تسلیم نہيں کرتا۔ اصلی اور حقیقی اثاثے ظاہر نہیں کیے جاتے۔ انتخابات کے بعد جیتنے والے گدھے کے سر سے  سینگ کی طرح غائب ہو جاتے ہیں اور ان سے ملنا جوئےشیر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام کے بجائےخواص پر خرچ ہوتا ہے۔  متناسب نمائندگی کا نظام کلی طور پر رائج نہیں اور اسی وجہ سے سینٹ وغیرہ کے انتخابات میں بے انتہا پیسہ چلتا ہے۔

ایک اور نکتہ جو میری سمجھ سے بالاتر ہےکہ ڈاکٹر کے لیے طب ،وکیل لیے قانون اور استاد کے لیے اس کے متعلقہ شعبے کا سند يافتہ ہونا ضروری ہے مگر محکموں کے سربراہان یعنی وزاراءکے لیے ایسی کوئی شرط نہيں۔ علاوہ ازیں یہ بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ایک عالم،ذی شعور اور عقلمند انسان کی رائےکیسے ایک جاہل،کم عقل یا ذہنی پسماندہ شخص کی رائےکے برابر ہو سکتی ہے۔

قارئين، ان تمام حقائق کو مد نظر رکھ کر اپنے جمہوری نظام کی ازسرنو تشکیل کے لیے اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

 

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے