نقطۂ نظر

میرٹ کو عزت دو

ممالک کی ترقی و خوشحالی کے اہداف حاصل کرنے کے عمل میں اہل اور قابل افراد کا  کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں صاف اور شفاف طریقہ کار کے  ذریعے قابل اور اہل افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے جس میں  میرٹ کو ہر حال میں مقدم رکھا جاتا ہے۔ ان کے ہاں  اقربا پروری، سفارش  اور رشوت کا تصور نہیں پایا جاتا یا کسی اور نوع کی  اثرانگیزی کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شعبے اور محکمے میں میرٹ کے مطابق منتخب شدہ اہل افراد ہی دکھائی دیتے ہيں جو اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے  کار لا کر قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔

وطن عزیز کی اخلاقی،معاشی اور اقتصادی تنزلی کی ایک اہم وجہ میرٹ کی پامالی بھی ہے۔ خاص طور پر سرکاری نوکریوں میں سیاسی اثر و رسوخ، اقربا پروری،سفارش نیز رشوت کا دور دورہ ہے۔ جبکہ نجی اداروں میں میرٹ کے حامل افراد ادنیٰ تنخواہوں پر دو دو لوگوں کا بوجھ اٹھائے کام کرتے ہیں اور چمچے سارا دن انٹرنیٹ پر گیمز کھیلتے ہیں۔  پڑھے لکھے اور قابل لوگ ڈگریاں تھامے مارے مارے پھرتے ہیں جبکہ نااہل ،  سفارشی و خوشامدی  افراد ہر جگہ براجمان ہیں۔  ہمارے موجودہ نظام نے غریب،ضرورت مند،محنتی اور اہل فراد کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔  بلکہ سچ تو یہ ہے کہ قانون اور قاعدے بنے ہی عام لوگوں کے لیے ہیں جبکہ خواص کے لیے راستے نکال لیے جاتے ہيں۔

ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ میڈیا، قانون اور عوام کی نظروں سے بچ بچا کر سائنسی بنیادوں پر بھی میرٹ کی پامالی کی جاتی ہے۔  بظاہر بڑے صاف اور شفاف طریقہ کار سے شارٹ لسٹنگ،ٹیسٹ اور انٹرویوز کا عمل کیا جاتا ہے ۔ سونے پہ سہاگہ اکثر اوقات بھرتی کے عمل کے لیے فی کس 500 یا 800 یا 1000 روپے تک فیس بھی وصول کی جاتی ہے اور  آخر ميں بیشترانتخاب  کسی  نامعلوم فون کال، کسی بڑی پرچی،  رشتے داری، یا رشوت کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔  بڑے بڑے مقابلے اور ٹیسٹنگ سروسز کے امتحانات بھی شک شبے سے بالاتر نہیں اور ان میں ہونے والی بے قاعدگیاں آئے دن اخبارات اور میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہيں۔

میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے اہل ،قابل اور ایمان دار افراد کو بھرتیوں کے عمل میں  ذمہ داریاں تفویض کرنا چاہئیں۔  آن لائین نظام کو فروغ دینا چاہیے۔  ایک آسامی کے لیے سب امیدواروں سے ایک جیسا ٹیسٹ اور انٹرویو ہونا چاہيے نا کہ عام آدمی سے سخت و مشکل اور سفارشی سے آسان سوالات  ۔ سارا طریقہ کار خفیہ رکھنے کے بجائے اوپن ہونا چاہیے۔  انٹرویوز کی ریکارڈنگ  بھی دستیاب ہو اور ٹیسٹ کے نتائج و جوابی کاپی بھی ۔ ٹیسٹ اور انٹرويوز کی ریکارڈنگ ہر کسی کی پہنچ میں ہونی چاہیے تاکہ  صرف اہل افراد ہی آگے آ سکیں اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔

معزز قارئین، میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے  اور اہل افراد کو آگے لائے  بغیر ملکی ترقی کا تصور بھی محال ہے اور اس بارے ميں سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے