زبان و ادب

مشتاق احمد یوسفی کی زرگزشت سے اقتباس

 

یعسوب الحسن غوری کی داڑھ کا ذکر آیا تو ہم نے خاقانی ہند استاد ذوقؔ کا شعر پڑھ دیا

جن دانتوں سے ہنستے تھے ہمیشہ کھِل کھِل

اب درد سے ہیں وہی رلاتے ہِل ہِل

شعر سن کر شاہ جی پہلے تو کھِل کھِل ہنسے۔ پھر آنکھ بند کر کے جیلی کی طرح تھَل تھَل ہلے۔ آنکھ کھلی تو افریقہ میں تھےاور ہاتھیوں نے گھیرا تھا۔ شروع ہو گئے۔ ان کے ہاں ہاتھی دانت کی لمبائی کتنی ہوتی ہے۔ ہاتھی بوڑھا ہو جائے تو پہلے اس کے کھانے کے دانت گرتے ہیں، یا دکھانے کے۔ مستی سے ہاتھی کے دانت کا رنگ کیسا ہو جاتا ہے۔ اسے دیکھ کر مادین کیسی متوالی چال چلتی ہے۔ انھوں نے مولود احمد ترمذی کا سیاہ کمبل اوڑھ کر مچان پر ہی گنج گامنی چال چل کر دکھائی جو واقعی ایسی تھی کہ اگر ہم ہاتھی ہوتے تو ہمارے دانتوں کا رنگ تبدیل ہو جاتا۔

ہاتھی سے شیفتگی کا یہ عالم کہ اکثر فرماتے، آپ کیا جانیں، ہاتھی کتنا قیمتی جانور ہوتا ہے۔ ملایا کے ایک شاعر نے ایک عاشقِ صادق کی زبان سے کہلوایا ہے کہ اگر مجھے اپنی محبوبہ کے بدلے میں ہاتھی بھی دیا جائے تو نہ لوں۔

ہم نے مست ہاتھیوں کی روندن سے بچنے کے لیے پوچھا، اچھا یہ بتائیے مشرقی افریقہ میں بینک کے انگریز افسر، کالے اور سانولے گاہکوں اور ماتحتوں سے کس طرح پیش آتے ہیں۔ جواب میں سرکش، سرشور ہاتھی پکڑنے کی ترکیبیں بتانے لگے۔ ہم نے سوال دہرایا۔ اللہ جانے سنا بھی یا نہیں۔ ارشاد ہوا ’’آہو جی! ہمارے ہاں خاص ضیافتوں میں سانپ کے سیخ کباب، فیلِ مُسّلم پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے گردِانسانی کھال سے منڈھی ہوئی ڈھولک پر رقص ہوتا ہے۔

انہیں مائل بہ تفصیل دیکھ کر ہم نے افریقی بینکوں کے انگریز افسروں کے عادات و اطوار سے متعلق اپنی کُرید بند کر دی۔ مبادا شاہ جی مشتعل ہو کر درندوں، گزندوں کی غیر شرعی زندگی سے پردہ اٹھانا شروع کر دیں۔ بارہ بجے یعسوب غوری ایک اینٹ بغل میں دبائے، کانکھتے کراہتے ہوٹل لوٹے۔ ہومیو پیتھ کو تو پولیس ایک پوشیدہ مرض کے لاعلاج مریض کے ساتھ مارپیٹ کرنے پر دفعہ 302 میں گرفتار کر کے لے گئی تھی۔ سردست اس کے والد ہی سے مشورہ کیا اور نقد فیس مشورہ کے عوض بیٹے کی ضمانت کا انتظام اپنے ذمہ لیا۔ بزرگوار اپنے بتیسوں دانتوں کے منفرد درد اور ایک ایک کے داغِ جدائی کا جدا تجربہ رکھتے تھے۔ وہ اس وقت اپنی حالیہ صورت حال کے اصل سبب کو کھرل میں کوٹ رہے تھے۔ مطلب یہ کہ پان کے اجزا کو کُوٹ کر مسوڑھوں کی مشکل آسان کر رہے تھے۔ موصوف نے سرخ اینٹ یا بھاڑ کی بھوبل سے جبڑا سینکنے کی ہدایت کی تھی۔ مصیبت یہ کہ کراچی میں دونوں نایاب۔ محاورتاً بھی عنقا۔ اہل کراچی ’’بھاڑ میں جائے ‘‘ کے بجائے دوسرے غیر معتدل آسمانی مقام کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس شہر میں اینٹ سے مراد ہمیشہ تاش کی اینٹ ہوتی ہے۔ پتھر کا جواب بھی اسی سے دیا جاتا ہے۔ اور اسی سے ایک دوسرے کی اینٹ سے اینٹ بجائی جاتی ہے۔

بڑی تلاش کے بعد ایک بوڑھے پارسی کی اس سے بھی زیادہ بوڑھی کوٹھی ملی۔ جس کی نیم پوپلی ’’کمپاؤنڈوال ‘‘ سے انہوں نے نظر بچا کے نسکہ کا جزوِاعظم کھینچ نکالا۔ اب سوال یہ تھا کہ غریب الوطنی کے عالم یعنی ہوٹل میں اینٹ کو گرم کس طرح کیا جائے۔ مولود احمد ترمذی نے تجویز پیش کی کہ جبڑےاور اینٹ کو سرخ فیتے سے باندھ کر اینٹ میں بجلی کا کرنٹ ’’پاس ‘‘ کر دیا جائے۔ یہ سنتے ہی شاہ جی اپنے جبڑے پورے کھول کر اتنا ہنسے، اتنا ہنسے کہ دیر تک ان کے حلق میں پھدکتا ہوا کوّا نظر آتا رہا۔ ہنسی رکی تو فرمایا کہ ’’ہمارے یہاں تو اینٹ ایسی عالیشان اور زوداثر ہوتی ہے کہ ہاتھی کی داڑھ کی بھی ٹکور کی جا سکتی ہے۔‘‘ ہم نے پوچھا، آپ کے ہاں کیا بڈھا بے دانت ہاتھی بھی گنے کا شوقین ہوتا ہے؟ گو دانت کو جنبش نہیں……. اس پر یعسوب غوری نے ہمیں ایسی قہر آلود نظروں سے دیکھا کہ اگر ہم موم کے بنے ہوتے تو جہاں جہاں ان کی نظر پڑی تھی وہیں سے پگھل جاتے۔ شاہ جی کا جواب منہ کے منہ میں رہ گیا۔ بس بائیں آنکھ میچ کے منہ سے گنڈیری چوسنے کی سی آواز نکالی اور اثبات میں سر کو ہلایا کیے گویا خود گنے کے کھیت کے کھیت روندتے مسلتے مستانہ وار چلے جارے ہیں۔ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں، اس لیے کہ خود ہاتھی ہیں۔ اور دانتوں کا رنگ ہے کہ ہر لحظہ بدلتا جا رہا ہے۔ خود ہانپے ، ہمیں بھی دیر تک ہنپاتے رہے۔ ہاتھی کے نجی جذبات کا اس سے بہتر مظاہرہ ہماری تو کیا، کسی ہتھنی کی نظر سے بھی نہ گزرا ہو گا۔

 

انتخاب: اقرا اکرم

اقرا اکرم
رنگ، تتلی، خوشبو اور خوب صورت پہناووں کی دلدادہ اقرا انٹر کی طالبہ ہیں۔ ابھی ٹین ایج میں ہیں لیکن معاشرے کو بہت سنجیدہ نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ سماجی مسائل پر قلم اٹھانے میں دل چسپی رکھتی ہیں اور مطمئن پاکستانی معاشرے کی خواہاں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے