زبان و ادب کتب خانہ

محبت کی کتاب – چودھویں قسط

رات کی آغوش میں دن،کب گِرا

لائیبریری کے اُسی مخصوص گوشے میں

جہاں وہ بیٹھ کر پڑھتی تھی یا پھر آج کل بکھرے ہوئے

کچھ کچے پکّے خوابچوں کو جمع کرتی ہے اُسے

اک  sms کی beep نے چونکا دیا

 اگلے ہی لمحے

ظفر کے sms نے اس کو نرغے میں لیا

dissolve

سنبل اپنے خواب وخوشبو کے جزیروں سے پلٹ کر آئی تو دن

رات کی آغوش میں لیٹا ہوا تھا

 اور وہ خود بستر پہ اوندھی لیٹ کر

کپکپاتی انگلیوں کی پوروں سے اپنی محبت نظم

کرتی جا رہی تھی

میں اب محبت کے نرغے میں ہوں

ظفراحتشام

تیراخط پڑھ کے اور تیری سچائی کے

مخملیں حسن کا لمس محسوس کرکے

یقیں آگیا ہے کہ میں اب محبت کے نرغے میں ہوں

ایسے آئینہ خانے میں ہوں

جو مری ذات کے سبز جنگل کے ایک ایسے گوشے میں تعمیر ہے

 جس میں چاند اور سورج گلے مل کے ہنستے بھی ہیں اور روتے بھی ہیں

رات، دن کے اُجالے سے منھ  دھوتی ہے

اور دن،رات کی نیلگوں خامشی کے سمندر کی گہرائی میں

صبحِ آئندہ تک

ڈبکیاں لیتا ہے اور میں دَم بخود

اپنے سیل فون کے سخت پہرے میں رہتی ہوں

یہ جانتا ہے [یہ سیل فون میرا] یہ وہ نامہ بر ہے

جو میری ہتھیلی میں

تکیے کے نیچے

کبھی پرس میں اور کبھی سائیڈ ٹیبل کے کونے میں

ہر وقت مجھ کو، مرے دل کی ہر کیفیت کو، مری نیند کو، نیند کی دھند میں

جاگتی آنکھوں دیکھے ہوئے ہر نئے خواب کے تازہ رُو باب کو

اپنی برقی نگاہوں کی ہر اک جھپک میں سموتا ہے، ایسا بھی ہوتا ہے کیا!

اک عجب تجربے سے گزرتی ہوئی زندگی ہے

میں جب ذات کے سبز جنگل کی جانب کبھی دیکھتی ہوں تو لگتا ہے

ہر پیڑ کی اَن گنت شاخوں پر، سبز پتوں سے چمٹے ہوئے، ٹمٹماتے

ہوئے جگنوؤں کی نگاہیں مرے دل کی دہلیز پر جم گئی ہیں

مری خواہشیں میرے اندر کہیں تھم گئی ہیں محبت میں ایسا بھی ہوتا ہے کیا!

عجب تجربہ ہے

کہ دل تو محبت کے نرغے میں ہے

اور سوچیں سوالوں کے گرداب میں مبتلا

میرے چاروں طرف

سانس لیتا ہوا اِک منقّش خلا

[بہت سارے سوالوں نے اُسے

دہشت زدہ سا کردیا تھا

دل اُسے سمجھا رہا تھا]

دل:  [سنبل سے] جب محبت کے نرغے میں آجائے انسان تو پھر کئی اجنبی خوف

احساس کی سطح پر آکے کٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے

ہیں، ڈراتے ہیں، بہکاتے ہیں

سنبل افراز تم بھی تو ایسی ہی کٹھ پتلیوں میں گھری ہو

جو دھڑکن کی منھ  زور لَے پر کھڑکتی ہوئی ایک دہشت بھرے رقص میں مبتلا ہیں

خوشی، خوف، وارفتگی، خواب، تعبیر اور ان کہی، ایک خواہش کے آغاز و انجام

کے درمیاں… ایک معصوم جاں

[دل نے یہ کہہ کر اُڑائی جب ہنسی اُس کی

تو وہ پھر ڈر گئی

اب تلک جو کچھ لکھا تھا اُس نے وہ سب کچھ ظفر کو send کیا

ایزل پہ کینوس کو لگایا

اور پھر کٹھ پتلیوں کو Paint کرنے لگی گئی سنبل]

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے