زبان و ادب کتب خانہ متفرقات

محبت کی کتاب – چوتھی قسط

اُسی پھولوں بھرے دن کی شب ِماہِ تمام

[رات کے پچھلے پہر کی چپ میں

نیم خوابیدہ سے ٹیرس پہ تنی ریلنگ سے

لگ کے بیٹھی ہوئی سنبل افراز]

 

سنبل: [خودسے ہی کہنے لگی] اُس کو یہ کیسے پتا…

    Paint بھی کرتی ہوں اور شاعری بھی

    میری نظموں کی کسی لائن میں

    مجھ سے تھوڑی سی جگہ مانگتا ہے

    کیوں مانگتا ہے!

[اپنے سینے میں بھری سانس اکٹھی کرکے

اُس نے باہر کی طرف پھینک کے

اِک وقفہ لیا

اِسی دوران اُسے

یہ بھی محسوس ہوا

جیسے اُس شخص کے message دل کے

کسی کونے میں کہیں

 کسمسائے ہوں

 کسمساہٹ کے اِسی لمحے میں

سنبل افرازنے پھر

 خود سے کہا]

سنبل:  یہ الگ بات کہ اس کی نظمیں

    اس کا انداز ِ بیاں

    اس کے اظہارِ محبت میں بڑی شدت ہے

    وہ مگر کون ہے جو

    روشنی مجھ سے مری مانگتا ہے

    اورپھریہ بھی تو کہتا ہے مجھے

     ’’مجھ میں ڈوب کر مجھ کو

    مار دے، امر کردے‘‘

[ایک لمحے کے توقف ہی میں پھر سنبل نے

جانے کیوں کنج لب ِ ماہ سے چھنتی ہوئی

آوارہ کرن سے پوچھا]

سنبل: مار دوں!…

   امر کردوں!

سنبل افراز

[اپنی آواز سے خود چونک اٹھی

 اوراُدھر ماہِ تمام

اپنے کنج لب ِالہام سمیت

سرسے نوکِ کف ِ پا تک گویا

پارئہ ابرکی بُکّل میں پڑا سوتا تھا

دل میں آئے ہوئے آوارہ خیالات پہ سنبل افراز

یک بہ یک پہلو بدل کر خود کو

سرزنش کرنے لگی]

سنبل: سنبل افراز!تمھیں

    رات کے پچھلے پہر کون سی دنیا کی طرف کھلتی ہوئی کھڑکی کو

    کھٹکھٹانے کا خیال آیاہے؟

[ایک میٹھی سی تھکاوٹ کے ساتھ

سنبل افراز اٹھی

اپنے کمرے میں گئی

بھینچ کر تکیے کو مٹھی میں اٹھایا اور پھر

آئینے میں

جیسے خود اپنے ہی منھ پر مارا]

آئینہ: سنبل افراز

   کیا ہوا

   تم نے سوتے سے جگایا ہے مجھے

   خیر تو ہے!

[آئینہ آنکھوں کو ملتے ہوئے بولالیکن

سنبل افراز نے اُس کو

بولنے سے روک دیا]

سنبل: نہیں …کچھ نہیں…

    کچھ بھی نہیں

     تم بھی سو جاؤ

     مجھے بھی…

[بات کے رخ کو دِل وسوسہ پرور

کی طرف موڑکے سنبل نے کہا]

سنبل: جانے کیوں نیندنہیں آتی ہے

   کتنے دن ہوگئے

   نظم لکھ پائی نہ کینوس پہ کوئی رنگ کھلا پائی ہوں

   جانے کیا ہوگیا ہے مجھ کو

[دفعتہ سنبل افراز

اپنے بستر سے اُٹھی

اورپھرآئینے کے سامنے جاکر کچھ دیر

اپنی ہی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے

یوں ہی خاموش رہی

پھر وہ کچھ آگے بڑھی

اپنے کلوز اَپ پہ گئی

آئینے سے یہ کہا]

سنبل:آئینے!

    تم تو مجھے جانتے ہو

    اپنی کچھ نیند مجھے دے دوگے!

[سنبل افراز کی

یہ  چھوٹی سی خواہش سن کر

چشمِ آئینہ میں

 حیرت کی چٹخ اُگنے لگی]

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے