زبان و ادب کتب خانہ

محبت کی کتاب ــ چھبیسویں قسط

بتاؤگی نہیں واپس کب آؤ گی!

صبح پوری طرح سے چمکی ہوئی تھی

اور کھڑکی کے گلابی رنگ پردوں سے گزر کر 

 بڑی آسودگی کے ساتھ، اندر فرش پر لیٹی ہوئی تھی

رات کے پچھلے پہر سے جاگتے بستر کی چادر اور تکیہ

ایک دوجے میں الجھ کر ایک گہری اونگھ میں تھے

ساتھ ہی بستر کی پائنتی پر رکھے بیگ کی

زِپ بند کرکے سنبل اپنے بالوں کے گُچھے کو

ہاتھوں میں لیے آئینے  کی جانب بڑھی

ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے clip کو اٹھایا

 فون کی گھنٹی بجی

 دوسری جانب ظفر تھا

ظفر: تو کیا تم جارہی ہو!

ظفر اپنی جگہ ششدر سا تھا

اس کو تو بالکل بھی نہیں معلوم تھا وہ شہرزاد اس

شہر کی باسی نہیں ہے

پوچھنے کی بات تو اپنی جگہ

 اس نے  سوچا تک نہ تھا ایسا

محبت میں ہمیشہ ان سوالوں کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے

محبت اور وحشت اور دہشت میں بھلا کب دھیان جاتا ہے

 کسی کا، اِن سوالوں کی طرف

ڈیڈی، ممی

لکھنوی ہیں!

دہلوی ہیں!

تم مہاجر ہو کہ پنجابی!

سو اب سیل فون کانوں سے لگائے دونوں چپ تھے

ہوسٹل کے صدر دروازے پہ سنبل کے لیے گاڑی کھڑی تھی

ہارن کی آوازنے دونوں کو چونکایا

سنبل: میں واپس آؤں گی، میرے لیے تم دل کا دروازہ کھلا رکھنا

[سنبل نے اشکوں میں گوندھے

ہوئے دھیمے لہجے میں

 اس سے کہا]

ظفر: بتاؤ گی نہیں واپس کب آؤ گی!

[ ظفرنے بھی اشکوں میں گوندھے ہوئے

دھیمے لہجے کو سنبل کے دل پرکچھ ایسے نچوڑا

 کہ سنبل تڑپ سی گئی]

سنبل:میں جانے کی طرح کب جارہی ہوں شہرزاد

مرا دل تو تمھارے پاس ہے

آنکھیں تمنّا کے جزیرے میں کہیں پر بھول آئی ہوں

اگر سوچوں تو لگتا ہے

سمندر اور محبت ایک جیسے ہیں

سو ہم دونوں

انھی دونوں کے نرغے میں رہیں گے جب تلک

 اک دوسرے میں سانس باقی ہے

 وہ آنسو ابھی تک جو سنبل

 کے لہجے میں بل کھارہے تھے

 اب آہستہ آہستہ آنکھوں کے زینے اُترنے لگے

…*…

بہت سارے دنوں سے

آئینہ چپ تھا

بس اک پتھر نظر سے اپنے گردوپیش کی چیزوں کو تکتا تھا

در و دیوار نے جو کان لمبے کر لیے تھے

ان کو

رنگوں اور پلسترکی تہوں کے ساتھ چپکا کر

اب اپنی اپنی بنیادوں میں پاؤں گاڑے بالکل ساکت و جامد

کھڑے تھے

آبنوسی رنگ کا اک خوب صورت سا پلنگ

سائیڈ ٹیبل

لیمپ

ٹائم پیس

اور بیڈ کور کی سلوٹیں

تکیے کے اوپر چند پھولوں کی شکستہ پتیاں اور دو کتابیں

ایک ایزرا پاؤنڈ کی نظموں کا مجموعہ تھا اور اک ایلیٹ

کی ویسٹ لینڈ

ڈبڈبائی آنکھوں سے ہر شے اُسے دھندلی دکھائی دے رہی تھی

ایلیٹ اور پاؤنڈ کو سنبل نے جاتے جاتے اپنے بیگ میں رکھتے ہوئے

لپ اسٹک اٹھائی

ہارن کی آواز نے سنبل کو

آئینے میں اپنی لپ اسٹک Retouch نہ کرنے دی

آنسوؤں کو اپنی بائیں آستیں میں جذب کرکے جب وہ

کمرے سے نکلنے کے لیے پلٹی تو رکنا پڑگیا اس کو

اُسے آئینہ کچھ کچھ اجنبی سا لگ رہا تھا، اپنا

چہرا بدلا بدلا لگ رہاتھا

[ اچانک آئینہ بولا]

آئینہ: اِسے پہچانتی ہو!

یہ جو مجھ میں حیرتی نظروں سے تم کو دیکھتی جاتی ہے

    اِس کو جانتی ہو!

[چند لمحے

 سنبل اپنے آپ کو چھو چھو کے

 ایسے دیکھتی ہے جیسے آئینے میں کوئی اور ہو]

آئینہ:یہ تم ہی ہو!

[آئینہ اک بار پھر گویا ہوا]

آئینہ:مگر اس موسمِ گل نے تمھارے دل کی دنیا میں

خیالوں اور خوابوں اور محسوسات کے جو پھول اُگائے ہیں

اثر ان کا ہے، جس نے تم کو سر سے پاؤں تک تبدیل کرڈالا

[ آئینے کا لہجہ قدرے تیز

اور آواز میں گمبھیرتا تھی]

آئینہ: ارے کیا جانتی ہو!

مجھ کو بھی پہچانتی ہو یا مجھے بھی بھول بیٹھی ہو!

[سوال آئینے کا سن کر بہت مانوس سی اک مسکراہٹ

جاگ اٹھی سنبل کے ہونٹوں پر

 وہ کچھ آگے بڑھی

اور لپ اسٹک سے

آئینے پر لکھ دیا]

 

سنبل:ربّ محبت کی قسم

میں اور تم دونوں وہی ہیں

فرق یہ ہے، تم فقط اپنی طرف سے سامنے کی چیزہی کو دیکھ سکتے ہو

محبت ہر طرف کو دیکھ سکتی ہے

[لپ اسٹک کو بیگ میں رکھتے ہوئے

سنبل ذرا آگے بڑھی اور آئینے کو Kiss کیا ایسے

کہ جیسے کوئی اپنے ہاتھ کا لکھا حلف نامہ پڑھے

اور دستخط کردے]

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے