زبان و ادب کتب خانہ

محبت کی کتاب ــ اٹھائیسویں قسط

خوشبو کے ہاتھ پاؤں زنجیر ہوگئے تھے

حویلی میں یہ اس کی ساتویں شب تھی

وہ اپنی خواب گہہ کے سارے پردوں کو گرا کر

اپنے پچھلے سارے دن، سارے مہینے ان مہینوں کے

خصوصی صبح و شام…

ظفر ولد احتشام الحق کے نام

 اب تک جو اُس نے کر دیے تھے ان کی گنتی بھول بیٹھی

جب ظفر کے messages کی beep سے وہ چونک اٹھی

پلک جھپکے بغیر inbox کھولا

سانس کو سینے میں جکڑا اور پہلا sms دیکھا

ظفر: جب تلک تجھ سے کوئی بات نہ ہو

میں تجھے دیکھ نہ لوں

ٹھیک سے سانس نہیں لے پاتا

[ایک گہری سانس لے کر

اس نے اگلا صفحہ کھولا

سیل فون کا]

دوسراmessage

رات برف باری میں

میری بے ثبات آنکھیں

لفظ لفظ بھٹکی ہیں

حرف، حرف روئی ہیں

ستاروں کی طرح اک پل میں ڈھیروں ساعتیں اُس کی نگاہوں میں چمک اُٹھیں

اِنھیں کی روشنی میں

تیسرا message بھی ٹِم ٹِم کر رہاتھا

توُ شہر میں نہیں ہے

اور شہر جاں کے اندر

کہرا سا بھر گیا ہے

تنہائی جم گئی ہے

آنکھوں کی پتلیوں میں

لمحے چٹخ رہے ہیں

ہونٹوں کی پپڑیوں میں

رستے لپٹ رہے ہیں

پیروں کی انگلیوں میں

تو شہر میں نہیں ہے

اور شہر کی ہَوا بھی

میلی سی لگ رہی ہے

خوشبو کے ہاتھ پاؤں

زنجیر ہوگئے ہیں

ہم تجھ سے بڑھ کے تیری تصویر ہوگئے ہیں

تیسرے message کوپڑھتے پڑھتے

ان سب messagesکے لفظ آنسو بن کے اس کی آبنائے چشم سے ہوتے ہوئے دشتِ فراق آثار کی حدّت

میں ضَم ہونے لگے

چوتھا message آنسوؤں کی دھند میں دیکھا

تو وہ اک voice message تھا

جسے اس نے

لرزتے دل کی دھڑکن کے flick پر click کیا

یہ ایک ٹھمری تھی

 *فریحہ کی کسی البم میں شامل یہ بہت مشہور  ٹھمری برقی سازوں سے مزیّن ہے، چلیں یہ آپ بھی سنیے

 یاد پیا کی آئے

یہ دکھ سہا نہ جائے…ہائے…یاد پیا کی آئے

سونی پڑی ہیں دل کی گلیاں

پل میں گزریں سو سو صدیاں

تجھ بِن رہا نہ جائے

        ہائے…

ٹوٹ نہ جائے سانس کی ڈوری

بھول گئے کیا پیار کی لوری

دوری کھا نہ جائے

        ہائے…

[یہ ٹھمری اورظفر،سنبل کے بیچ

Inter cutting

دن ،رات ،ہجر و وصل کی کیفیتیں

اک مونتاژ]


٭ فریحہ پرویز سنگر

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے