کتب خانہ

محبت کی کتاب – تینتیسویں قسط

محبت اور دسمبر کی گلابی سردیوں کی شام

دسمبر کا یہ شاید آخر ی دن ہے

محبت زلزلے کے دن سے کومے میں پڑی ہے

دسمبر کی گلابی سردیوں کی شام

ساحل سے ذرا ہٹ کر

ظفر کے فلیٹ کے بیڈروم کی کھڑکی سے اندر جھانکتی ہے

نیم روشن، زرد تنہائی کی بُکّل مار کر بیٹھے ظفر کو دیکھ کراس پر ترس کھاتی ہے

بے آواز قدموں سے پھر اس کے بیڈ کے پاس آتی ہے اس کی جلتی آنکھوں پر ستارہ سا کوئی بادل کا

ٹکڑا رکھتی ہے اور پوچھتی ہے

شام:’’آج کیسے ہو!

بہت دن سے تمھیں یوں ہی اکیلا دیکھتی ہوں

میری ویرانی تو ویسے بھی بہت مشہور ہے لیکن تمھاری حالت ِبدحال

کو جب دیکھتی ہوں تو بہت ویران ہو جاتی ہوں

 اٹھو، میری ویرانی کو بھائی اور گہرا مت کرو

اٹھو یہاں سیلن بہت ہے

[ظفر پتھرائی آنکھوں سے مسلسل شام کے

رخسار و لب پر سے سرکتے اُس گلابی پن کو

 دیکھے جارہا ہے جس کا خالص پن

 یقینی طور پر سنبل کے

 رنگِ عارض و لب سے مشابہ ہے]

تمھارے دل میں جو کچھ ہے مجھے کہہ دو

[ظفر اور شام، دونوں اب سمندر کی طرف

کھلتے ہوئے ٹیرس پہ بیٹھے ہیں]

شام:مجھے کہہ دو

تمھارے دل میں جو کچھ ہے

[گلابی سردیوں کی شام کے

 اصرار پر آخر

ظفرکہتاہے]

ظفر:سن اے شامِ فراقِ یار…سُن

سنبل کی منگی ہو گئی…

Betray کیا اس نے مجھے

زخمی کیا اُس نے مرے شفاف دل کو

آئینہ تھا میں

مجھے بیگانگی کے پتھروں پر پھینک کر توڑا ہے اُس نے…وہ…

وہ فیوڈل لارڈ کی بیٹی…

[ ظفرنے دانت پیسے

منھ  میں بنتی جھاگ نگلی

دکھ ملے غصّے کا لمبا گھونٹ

لے کر پھر وہ کہتاہے]

ظفر:مجھے جب اس نے لکھا

اس کی منگنی ہو گئی ہے

میں نے اس کے ہاتھ جوڑے

منتیں کیں

ہر طرح سے اس کی ہمت کو بڑھانے کی سعی کی

 آنسوؤں میں تر وفا کے پھول بھیجے

اپنے دل کے گھاؤ، تنہائی کی چیخیں، رتجگوں کی سرخیاں بھیجیں 

سرِصحنِ دلِ پژمردہ میں اُگتے ہوئے

ہرخار و خس کی نوک پر جمتے لہو کی بوندیوں کو بھی

 کئی نظموں کے مصرعوں میں پرویا

[اچانک لفظ اُس کے حلق کے اندر اٹک جاتے ہیں

 چند لمحوں کی عجب اک خامشی ہے

Ventilator پرلگی آدھی محبت کا تنفس چل رہا ہے

اور کچھ لمحوں کے بعد]

ظفر پھر دل کی مٹھی کھولتا ہے

تین نظمیں اس کے بھیگے دامنِ اظہار میں گرتی ہیں

جو اُس نے ابھی کچھ دن ہوئے ایک ایک کرکے اُس شجرزدی

کو بھیجی تھیں

کرسی کے بازو پکڑ کر

شام ٹھنڈی سانس لے کر اک ذرا پہلو بدلتی ہے

ظفر پھر

اس کے آگے دل کی رگ رگ کھول دیتا ہے

محبت تم نے کب کی ہے

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے