کتب خانہ

محبت کی کتاب – تیسویں قسط

فون پر بھی ایک گہری چپ کا سایہ تھا

کئی دن تک وہ کمرے کے درودیوار میں محبوس

بستر کی ہزاروں سلوٹوں کے بیچ اک بے خواب

تکیے کی طرح اوندھی پڑی روتی رہی 

 فون پربھی ایک گہری چپ کا سایہ تھا

ظفر کی اَن گنت miss calls اور message تھے

جو سنبل کے لمسِ مخملیں کے منتظر تھے

لیکن ایسی ذہنی کیفیت کہ جس میں زندگی

 اور اس کے خواب اور خواب جیسی اک محبت

رنگ برنگے کپڑوں کی

ڈھیروں کترنوں کی طرح سے اس کی چاروں

سمت اڑتی پھررہی تھی، کس طرح، کیسے وہ

اس سیل فون کو چُھوتی!

مگر اِس وقت پورے دو مہینے بعد اُس نے اپنے دل

کی ساری قوت جمع کرکے اپنا سیل دیکھا جو

چپ سادھے پڑا تھا ایک کونے میں

…*…

چارج کرتے ہی جب اُس نے کپکپاتی انگلیوں سے فون

کو زندہ کیا تو دیر تک پھر ایک message tone تھی جو اس کے دل کی دھڑکنوں کو تیزترکرتی رہی

سیل کی message tone نے وقفہ لیا تو

ایک گہری سانس لی سنبل نے اور Inbox کھولا

نظمیں کیا تھیں آنسوؤں کی کہکشائیں تھیں

جو سنبل کے شکستہ حوصلے کی دھند میں تحلیل ہوتی

جا رہی تھیں

[نظموں کی ان کہکشاؤں میں سے

اک یہ صبح کاذب

آپ بھی پڑھیے]

 پرکچّے پکّے خوابچوں کا ذائقہ ہے

صبحِ کاذب ہے

فضا میں جگنوؤں کی روشنی کا شائبہ ہے

اور زباں پر کچّے پکّے خوابچوں کا ذائقہ ہے

یہ سہانا وقت جس میں

سبز آنچل اوڑھ کر چلتی ہوا بھی

خوشبوؤں کے دامنوں پر پاؤں رکھتی

اور درختوں کے دھلے پتوں، شگفتہ ٹہنیوں سے راز کی صورت گزرتی جارہی ہے، یہ سہانا وقت تجھ سے گفتگو کا وقت ہے لیکن

ابھی تک فون کی گھنٹی پہ اک سنگین خاموشی کا پہرا ہے

گھڑی کی سوئیاں

سینے میں خنجر کی طرح چبھنے لگی ہیں

وقت کانٹے کی طرح حلقوم میں اٹکا ہوا ہے

اک ’’ہیلو‘‘

ہاں۔۔۔ لذتِ احساسِ قربِ یارمیں ڈوبی ہوئی

بس اک ’’ہیلو‘‘ سننے کی خاطر جسم و جاں کا ہر مسام

 اب منتظر ہے لیکن اے جانِ جہاں!

کیوں خامشی ہے

کیوں یہ دھڑکن سینۂ خالی کی محرابوں میں

ٹیلی فون کی گھنٹی کی صورت تھم گئی ہے، کیوں تمھارے ہاتھ کی

پوروں تک آکر بات کرنے کی تمنّا جم گئی ہے

ان گلابی پتیوں جیسی سبک پوروں میں

مجھ سے بات کرنے کی تمنّا کو جگا، ڈائل گھما جاناں کہ سینے میں کہیں اٹکی ہوئی دھڑکن چلے، گھنٹی بجے پھر دیر تک اور دور تک

سرگوشیوں میں شبنم و خوشبو میں تر ساون گرے

[ سنبل ،گھٹاٹوپ اندھیرے کی کھڑکی سے لگ کر

لرزتے ہوئے، زردپتّے کی مانند

 اپنی کہی اَن کہی

کے درمیاں ڈولتے ڈولتے سوگئی]

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے