کتب خانہ

محبت کی کتاب – بتیسویں قسط

محبت منھ  کے بل جاکر گری تھی

ظفر کی ہر رگِ جاں میں دھواں ہوتا لہو 

 آنکھوں کا بادل بن گیا

اس کی نظر دھند لاگئی

اُسے سنبل کا message پڑھ کے 

پاگل پن کا دورہ سا پڑا تھا

آرزوئیں

صبحیں، شامیں

لمس کی کرنیں

 نظر کے زاویے

پوروں کی شمعیں

اور کمرے میں پڑی ہرشے دھواں ہو کر بگولہ وار اڑتی

                                 پھر رہی تھی اس کی چاروں سمت

یہ message زلزلے کا اک بڑا جھٹکا تھا

جس نے ایک لمحے میں ظفرکے دل کی بنیادیں ہلادی تھیں

اسی کہرام میں سنبل نے اس کو فون پر یہ بھی کہا

سنبل:’’دیکھو ظفر!

ہر شخص کے دل کے کسی کونے میں قبرستان ہوتا ہے

 سو تم

اُس میں مرے بھی نام کی اک قبر کھو دو

اور اس میں اپنی ساری آرزوئیں، صبحیں، شامیں، لمس کی کرنیں، نظر کے زاویے، پوروں کی شمعیں دفن کر دو، میں

تمھارے واسطے اب مرگئی ہوں‘‘

یہ فون اِک دوسرا جھٹکا تھا

جس کی دھڑدھڑاہٹ میں محبت منھ  کے بل گرتی گئی

[سکتے کا اک وقفہ… ]

 ظفر جب ہوش میں آیا تو اس نے فرش پر اوندھی پڑی

اپنی محبت کو اٹھایا

 اس کی سانسوں میں دراڑیں پڑچکی تھیں

نبض کی رفتار اپنی لے سے یک دم ہٹ گئی تھی

 اورگردن کی صراحی میں تنی اُس کی رگ ِ جاں 

اک طرف سے کٹ چکی تھی

ظفر نے ایک گہری اور لمبی سانس کی چادر میں لپٹا کر

اُسے سینے کی محرابوں کے سائے میں لٹایا اور وہ پھر اک Ventilator بن گیا زخمی محبت کا

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے