کتب خانہ

محبت کی کتاب – اکتیسویں قسط

کہی اور ان کہی کے درمیاں کیا تھا

سنبل کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے

بس اک ریت کا خشک دریاتھا

اوراس کے چاروں طرف جنگلوں کی ہوا چیختی پھر

رہی تھی

اُسے اپنے محبوب کو یہ بتانا تھا

وہ مر گئی ہے

روایت کے مرگھٹ پہ اس کو

دلہن کی طرح سے بٹھایا گیا،سب کی موجودی میں

اس کو فخر الزماں نے جو اس کا کزن بھی ہے، منگنی کی انگوٹھی پہنائی اور اُس پہ غیرت کا، عزت کاگھی تیل چھڑکا، اصولوں کی ارتھی میں پھینکا،

جلایا پھر اس کی مقدس محبت کو

انگشتری کی شہادت کے بل پر

تواب وہ

وہ سنبل نہیں ہے

نہ وہ شاعرہ ہے نہ وہ painter ہے نہ وہ شہرزاد

وہ شجرزاد ہے

اپنے شجرے میں گاڑی گئی وہ شجرزاد ہے

جس کی قسمت میں ایسی محبت  نہیں تھی

 جو خود اس کے اندر سے پھوٹی تھی، جو آب و دانہ تھی اس کا جو پھیلی تھی اس کے تمنّا کے خود رو جزیروں میں لیکن تمنّا کے خود روجزیرے، محبت  کے مہتاب سب کچھ روایت کے کھاری سمندر کی تہہ میں کہیں گھل رہا تھا، سو

اس نے ظفر کو لکھا

سنبل:ظفراحتشام

میں اب وہ نہیں ہوں

مرے نام کے ساتھ’’افراز‘‘ کی جگہ ’’فخرالزماں ‘‘لگ گیا ہے

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے