نقطۂ نظر

قومی لباس، نظر انداز کیوں

کچھ عرصہ قبل میں اپنا معمول کا چیک اپ کروانے ایک سرکاری ہسپتال میں گیا۔  ڈاکٹر کے کلینک کے آگے مریضوں کی لمبی قطار تھی۔  میں اپنا قومی لباس زیب تن کیے ہوئے تھا۔  معاشرے کا ایک ذمہ دار شہری ہونے اور قوانين پر سختی سے عمل کرنے والے انسان ہونے کے ناطے میں بھی قطار میں کھڑا ہو گيا۔  میں نے اور قطار میں کھڑے ہر شخص نے یہ نوٹ کیا کہ کلینک کے دروازے پر کھڑا چپراسی شلوار قمیض پہنے ہوئے مریضوں کو درشت لہجے میں مخاطب کرتے ہوے قطار میں کھڑا کر رہا تھا اور اپنے تئيں قانون و انصاف کے تقاضے بھی پورے کر رہا تھا۔  اسی اثنا میں ٹائی اور سوٹ میں ملبوس ایک شخص قطار کو نظرانداز کرتا ہوا سیدھا آگے چلا گيا۔  خلاف توقع چپراسی نے اس کے ساتھ بڑے اچھے اور مؤدبانہ انداز میں چند جملوں کا تبادلہ کر کے سیدھا اندر بھیج دیا۔  اس کے بعد بھی ایسا ہی چلتا رہا اور کئی لوگ اسی طرح بغیر قطار اندر جاتے رہے۔ علاوہ ازیں ہم نے یہ بھی نوٹ کیا کہ شلوار قمیض والوں کو وہ چپراسی اوئے ،بھائی،یار وغیرہ کے الفاظ سے اور بڑے سخت لہجے ميں مخاطب کر رہا تھا جبکہ پتلون پہنے افراد کو بڑے میٹھے لہجے میں سر سر کر کے بلا رہا تھا۔  قوانین کی پاسداری کرنے والے ایک اور حساس انسان ہونے کے ناطے مجھے اپنے قومی لباس کی ایسی ناقدری اور بے توقیری پر بہت دکھ ہوا۔ ہوسکتا ہے آپ کے لیے بھی یہ ایسی کوئی نئی بات  نہ ہوکہ ایسے واقعات آج کل ہر جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بس اڈوں پر جائيں یا کارپوریٹ دفاتر میں ہر جگہ ایسے رويے دکھائی دیتے ہیں۔  

قارئين، کہنے کو تو شلوار قمیض ہمارا قومی لباس ہے مگر عملی طور پر ایسا بالکل نہیں ہے۔ بلند مرتبے اور حیثیت کا اظہار ٹائی اور سوٹ پہن کر کیا جاتا ہے۔  شادی کے دولھا سے لے کر افسران اور سیاست دانوں تک ہم نے عزت اور احترام کا معیار مغربی لباس کو بنایا ہوا ہے۔ کارپوریٹ اداروں میں اگر کوئی بہت زیادہ مغربی لباس پہنے جو ہماری ثقافت کے منافی ہو تو کہا جاتا ہے کہ ہم کوئی ڈریس کوڈ لاگو نہیں کرسکتے لیکن جیسے ہی قمیض شلوار کی باری آئے واضح انداز میں اس کی مذمت کی جاتی ہے۔  ملازمت میں ترقی ہو یا اعلیٰ سطحی میٹنگز قمیض شلوار میں ملبوس  افراد کو کم ہی شامل کیا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اہم مواقع اور تقاریب میں شلوار قمیض پہننے والوں پر ہنسا جاتا ہے اور عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔   حتیٰ کہ سادہ قمیض شلوار  میں ملبوس چادر لپیٹے خاتون کو بھی توقیر نہیں دی جاتی اور مغربی پہناوے میں سجی بنی خاتون کے آگے میڈم میڈم کرکے انھیں خصوصی تکریم سے نوازا جاتا میری اس لمبی تمہید کا مقصد کسی لباس کی توہین ہرگز نہيں بلکہ ہمارے قومی لباس کے متعلق ہمارے رویوں کی فقط نشاندہی ہے۔  

 

ہمارے یہ رویے ہماری احساس کمتری کا اظہار بھی کرتے ہيں،  جو سراسر غلط ہے۔  اردو بولنے والے ، قمیض شلوار پہننے والے  یا  اپنی ثقافت و  تہذیب سے جُڑے  افراد کو اسی طرح نظرانداز کیا جاتا ہے۔  پڑوسی ملک ہو یا  اور کوئی بھی ترقی یافتہ ملک   ان کی  اپنے لباس سے محبت و انسیت صاف دکھائی دیتی ہے۔ ان کے حکمران تو بیرونی دورے بھی بڑے فخر سے ،قومی لباس پہن کر اور سر اٹھا کر کرتے ہيں اور ہم غیروں کے لباس کو اپنا ئے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اقوامِ عالم میں ممتاز ہیں؟  ہمارا پہلا تعارف اور جداگانہ تشخص ہمارا لباس ہوتا ہے جو ہماری پہچان بنتا ہے۔ ہمارا قومی لباس اس قدر پُروقار، دیدہ زیب اور باسہولت ہے اس کے باوجود ہم اس سے کنی کترائے اغیار کا پہناوا اوڑھے پھریں تو یہ اس لباس سے نہیں بلکہ خود اپنی پہچان کے ساتھ زیادتی ہے۔

معزز قارئین، قومی ترقی و عروج کی منازل طے کرنے کے لیے دوسرے عوامل کے علاوہ قومی لباس اور اقدار کے فروغ و حوصلہ افزائی کی طرف توجہ دینا بھی بےحد ضروری ہے کہ اپنے تشخص ، پہچان اور احساس برابری کو اہمیت دیےبغیر آج تک کسی قوم نے ترقی نہیں کی۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے