متفرقات مذہب

انعام کی رات اور ہم

عید الفطر کی رات کو حدیث میں ’’لیلۃ الجائزہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ لیلۃ الجائزہ کا مطلب ہے جائزے کی رات۔ اور جائزے کے بعد ہی کامیابی اور ناکامی کا تعین ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس رات کو انعام کی رات بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس رات ایمان والوں کو ایک بڑا انعام دیا جاتا ہے اور وہ انعام اللہ کی رضا اور مغفرت کا پروانہ ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے اس آخری دن تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد کیے گئے ہوتے ہیں ان کے برابر اس ایک دن میں آزاد کیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے ’’کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو کام پورا کرچکا ہو؟‘‘ تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے معبود اور مالک!اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے فرشتوں!میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کورمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی۔ اور پھر بندوں سے ارشاد ہوتا ہے: ’’اے میرے بندو! مجھ سے مانگو، میری عزت کی قسم! آج جو بھی تم اپنی دنیا اور آخرت کے بارے میں سوال کرو گے میں تمھاری مصلحت کے پیش نظر تمھیں عطا کروں گا۔‘‘
البتہ اتنی رحمت اور برکت والی رات میں بھی کچھ لوگ انعام سے محروم رہ جاتے ہیں ان میں سے ایک والدین کا نافرمان، دوسراقطع رحمی کرنے والا(رشتہ داری ختم کرنےوالا)، تیسرا کسی دوسرے کے لیے کینہ اور بغض(برے جذبات)رکھنے والا اور چوتھا شراب کا عادی۔ اگر غور کریں تو اکثر حقوق العباد (بندوں کے حقوق) میں کمی کوتاہی اس انمول انعام سے محرومی کا سبب ہے۔
لہذا اس انعام والی رات محرومی سے بچنے کے لیے ہمیں اپنا جائزہ لینا ہوگا کہ ہمارے اندر تو کہیں یہ برائیاں نہیں ہیں،اگر ہیں تو ابھی سے اپنے معاملات درست کرلیں، والدین سے معافی مانگ کر انھیں راضی کرلیں، رشتہ داروں سے قطع تعلقی ختم کردیں اور ان سے تعلقات بحال کرلیں، دل صاف کرلیں۔ اللہ کی رضا کے لیے ہر کسی کو معاف کردیں، کیوں کہ ہم بھی تو اللہ سے معافی کے طلب گار ہیں۔

وہ مایوسِ تمنّا کیوں نہ سوئے آسماں دیکھے
کہ جو منزل بمنزل اپنی محنت رائگاں دیکھے

محمد عثمان طاہر
محمد عثمان طاہر گذشتہ 7 برسوں سےشعبۂ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ کراچی یونی ورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے کیا ہے۔ مختلف تعلیم گاہوں میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

One thought on “انعام کی رات اور ہم”

اپنی رائے کا اظہار کیجیے